گلگت، نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد نے حلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
گلگت:
گلگت بلتستان کے قانون ساز اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے بعد نامزد نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد نے اپنے منصب کا حلف اٹھالیا۔
گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے جسٹس (ر) یار محمد سے نگران وزیراعلیٰ کا حلف لیا۔
نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے حلف کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ ان کی اولین ترجیح شفاف اور غیرجانب دار انتخابات کا انعقاد ہے اور اس کے لیے اپنی کوششیں بروئے کار لائیں گے۔
نگران کابینہ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے سوچ وبچار کے بعد اہل اور دیانت دار افراد کو کابینہ میں شامل کریں گے۔
واضح رہے کہ جسٹس (ر) یار محمد کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع استور سے ہے۔
حلف برداری کی تقریب میں وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران امیر مقام نے خصوصی شرکت کی، اس کے علاوہ عدالتوں کے جسٹس صاحبان، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان، اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد، سابق صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا، صوبائی سیکریٹریز، مختلف سیاسی شخصیات اور عوامی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان یار محمد
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔