ٹی ایل پی احتجاج: حکومت کا جعلی خبروں کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، گرفتاریاں
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی ایل پی احتجاج کے حوالے سے حکومت نے جعلی خبروں کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے، اس سلسلے میں کئی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) واقعے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں، ویڈیوز اور آڈیوز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیک نیوز نیٹ ورک کا سراغ لگالیا گیا ہے اور اس میں ملوث مرکزی کرداروں کی فہرست بھی تیار کرلی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی معلومات پھیلانے والے عناصر کے خلاف PCCIA کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے، جبکہ ایف آئی اے کا سائبر کرائم وِنگ اور دیگر خصوصی یونٹس فوری گرفتاریوں کے لیے متحرک ہوچکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ’ڈیپ فیک لیب‘ کو بھی فعال کردیا گیا ہے، جہاں جھوٹی ویڈیوز اور آڈیوز کی فارنزک جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت جاری کی ہے کہ غلط یا گمراہ کن مواد 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دیا جائے، بصورتِ دیگر متعلقہ اکاؤنٹس کی مستقل معطلی کی سفارش کی جائے گی۔
عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی غیر مصدقہ ویڈیو یا کلپ کو شیئر کرنے کی صورت میں کارروائی ممکن ہے، کیونکہ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے بیرونِ ملک موجود نیٹ ورکس کی بھی نشاندہی کرلی ہے، اور سفارتی سطح پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ریڈ نوٹس اور بین الاقوامی تعاون کے آپشنز پر بھی مشاورت جاری ہے۔
میڈیا اداروں، بلاگرز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی مواد کی اشاعت یا نشر کرنے سے قبل دہری تصدیق لازمی کریں۔
حکومت نے گمراہ کن ہیش ٹیگز اور ٹرول سیلز کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مشکوک ٹرانزیکشنز کی اسکریننگ بھی شروع کردی گئی ہے۔
صوبائی سطح پر فوکل پرسنز کی نامزدگی کے ساتھ فوری ری ایکشن اور کاؤنٹر میسجنگ سیل قائم کردیے گئے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک یا جعلی خبر کی اطلاع سرکاری ہیلپ لائن 1919 پر دیں، جہاں شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حکومت نے کے خلاف گئی ہے
پڑھیں:
بانی پی ٹی آئی جیل سے ہی حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے خواہاں ہیں: رانا ثناء اللہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت کو بانی پاکستان تحریک انصاف سے کوئی خوف نہیں، تاہم جیل میں ملاقات اور اس کے بعد سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے قانون کی پابندی لازم ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہئے، مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ طویل ملاقاتوں کے بعد گھنٹوں پر مشتمل پریس کانفرنسیں نہ کی جائیں اور نہ ہی جلاؤ گھیراؤ یا اسلام آباد کی جانب مارچ جیسے بیانات دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص جیل میں بیٹھ کر باہر تحریک چلائے۔ ملاقات کا مقصد سیاسی شور مچانا نہیں ہونا چاہئے، عدالت نے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے دو نکات واضح کیے تھے: ملاقات ہوسکتی ہے مگر اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ حکومت عوام کو بتائے گی کہ مذاکرات کے لیے ہر راستہ اختیار کیا گیا، لیکن بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کو احتجاج کی کال دی تھی اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال کی طرح ممکنہ احتجاج کی تیاری کی جا رہی تھی۔
انہوں نے نواز شریف کی سابقہ بیرونِ ملک روانگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جیل توڑ کر باہر نہیں گئے تھے، انہیں اس وقت کی کابینہ نے اجازت دی تھی۔‘‘
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں، قانون کے مطابق ملاقات ہونی چاہئے، تاہم سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اسی تناظر میں انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی طرزعمل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر اتنی محبت ہے تو مرتے دم تک بھوک ہڑتال کرنی چاہئے۔