کراچی میں چنگچی رکشہ اور ٹریفک خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد میں ٹریفک پولیس نے شہر میں ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنانے اور حادثات میں کمی کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کے دفتر میں ہونے والے اجلاس میں ٹریفک پولیس حکام اور ٹرانسپورٹرز نمائندگان نے شرکت کی، جہاں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چنگچی رکشہ کے کم عمر ڈرائیورز کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی اور ایک رکشے میں پانچ سے زائد مسافروں کے سوار ہونے پر مکمل پابندی ہوگی، اسی طرح ڈبل پارکنگ، تیز رفتاری، غلط پارکنگ اور ون وے کی خلاف ورزیوں پر بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے واضح کیا کہ تمام کارروائیاں فیس لیس ای چالان سسٹم کے ذریعے ہوں گی تاکہ شفافیت برقرار رہے اور بلا امتیاز قانون پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ٹرانسپورٹرز نمائندگان نے ٹریفک پولیس کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ڈرائیورز کی تربیت کے لیے پولیس کے ساتھ مشترکہ پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین، احتیاطی تدابیر اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی جائے گی تاکہ سڑکوں پر نظم و ضبط میں بہتری لائی جا سکے۔
مزید یہ طے پایا کہ تمام منی بسوں اور کوچز میں 27 اکتوبر 2025 تک جی پی ایس ٹریکرز کی تنصیب لازمی ہوگی تاکہ ان کی نگرانی مؤثر طریقے سے کی جا سکے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت، ٹریفک کی روانی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس جائے گی
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔