پنجاب کی جیلوں میں پہلی دفعہ قیدیوں کی تعداد 70ہزار سے تجاوز کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 2 ماہ میں 7 ہزار قیدیوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ لاہور کی دونوں جیلوں میں 10 ہزار500 اسیران قید ہیں جبکہ ان دونوں جیلوں میں گنجائش 4300 قیدیوں کی ہے۔ سب سے زیادہ قیدی اڈیالہ جیل میں8 ہزار 184 اسیر ہیں، جبک اڈیالہ جیل کی گنجائش2 ہزار 174 ہے۔ قیدیوں میں 70 ہزار مرد اور خواتین قیدیوں کی تعداد 1 ہزار 360 ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ جیل خانہ جات کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر کی جیلوں میں گنجائش سے 88 فیصد زیادہ قیدی پابند سلاسل ہیں۔ 45 جیلوں میں 38 ہزار 377 قیدی رکھنے گنجائش ہے۔ اس وقت 72 ہزار 176 قیدی رکھے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 2 ماہ میں 7 ہزار قیدیوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ لاہور کی دونوں جیلوں میں 10 ہزار 500 اسیران قید ہیں، جبکہ ان دونوں جیلوں میں گنجائش 4300 قیدیوں کی ہے۔ سب سے زیادہ قیدی اڈیالہ جیل میں 8 ہزار 184 اسیر ہیں، جبک اڈیالہ جیل کی گنجائش 2 ہزار 174 اسیروں کی ہے۔ قیدیوں میں 70 ہزار مرد اور خواتین قیدیوں کی تعداد 1 ہزار 360 ہے۔
محکمہ جیل خانہ جات کے اعداد و شمار کے مطابق جیلوں میں کم عمر قیدیوں کی تعداد 893 ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی تعداد زیادہ ہونے سے بیماریاں بڑھنے کا خدشہ ہے، اسیران کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے موجودہ بیرکس میں ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق دو سال کے دوران 58 ہزار سے بڑھ کر 63 ہزار سے 65 ہزار تک اسیران قید تھے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران حیران کن طور پر 7 ہزار سے زائد قیدیوں کا اضافہ ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر بڑے شہروں میں نئی جیلیں بنانا پڑیں گی۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اعداد و شمار کے مطابق دونوں جیلوں میں قیدیوں کی تعداد اڈیالہ جیل
پڑھیں:
سری لنکا، سمندری طوفان، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 123 ہوگئی
سری لنکن محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقے جو پہلے سے ہی سیلاب سے متاثرہ ہیں، وہاں مزید سیلاب متوقع ہے، جبکہ دارالحکومت کولمبو میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سری لنکا میں سمندری طوفان دتوا کے باعث شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 123 ہوگئی۔ سری لنکا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر نے 123 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طوفانی بارشوں کے باعث اب تک 130 افراد لاپتا ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئی ہیں، شمالی اور مشرقی علاقوں میں 300 ملی میٹر تک ہونے والی بارش لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ بنی۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق طوفان اور سیلابی صورتحال کے سبب ملک بھر میں 44 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ افراد کو اسکولوں اور پبلک مقامات میں منتقل کیا گیا ہے۔ سری لنکن محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقے جو پہلے سے ہی سیلاب سے متاثرہ ہیں، وہاں مزید سیلاب متوقع ہے، جبکہ دارالحکومت کولمبو میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔ حکام کے مطابق سیلاب کے باعث متعدد افراد نے گھروں کی چھتوں پر پناہ لے رکھی تھی، جنہیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کیا گیا ہے۔