دو سالہ جنگ کے بعد ملبہ اٹھانے کا عمل شروع، 5لاکھ سے زیادہ فلسطینی غزہ لوٹ آئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
غزہ میں 2 سالہ تباہ کن جنگ کے بعد بلڈوزروں نے ملبہ صاف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے، جبکہ دسیوں ہزار بے گھر فلسطینی شمالی غزہ کے برباد شدہ شہروں اور قصبوں کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے لیے مجوزہ امن معاہدہ: اہم نکات، مضمرات، اثرات
غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق واپسی کا یہ سلسلہ جمعے کی دوپہر فائر بندی کے آغاز کے فوراً بعد شروع ہوا، جنگ بندی امریکی ثالثی میں نافذ ہوئی،جو اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے نئے امن معاہدے کا پہلا مرحلہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے معاہدے کے تحت اپنے دستے مخصوص مقامات تک واپس بلا لیے ہیں۔
الجہاد اسٹریٹ اور الرشید روڈ کے اطراف سے ٹینک ہٹا لیے گئے تاکہ بے گھر خاندان غزہ شہر واپس جا سکیں۔ محمود بصل کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5 لاکھ سے زائد شہری واپس اپنے تباہ شدہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں، اس جگہ جو کبھی ان کی زندگیوں کا مرکز تھی، مگر اب وہ جو منظر دیکھ رہے ہیں، وہ ناقابلِ شناخت تباہی ہے۔
پورے کے پورے محلے زمین بوس ہو چکے ہیں، عمارتوں کے ڈھانچے اور کھنڈرات کے سوا کچھ باقی نہیں۔ غزہ کا منظرنامہ بڑے بڑے گڑھوں، ملبے کے پہاڑوں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبوں سے بھرا ہوا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تباہی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ خاص طور پر وہ علاقے جہاں اسرائیلی فوج نے اپنی زمینی کارروائیاں کی تھیں، وہاں کی سول انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔
ہزاروں افراد لاپتاسول ڈیفنس کے مطابق 9 ہزار 500 افراد اب بھی ملبے تلے لاپتا ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں اب تک 155 لاشیں نکال چکی ہیں اور روزانہ درجنوں مدد کی کالز موصول ہو رہی ہیں۔
مقامی باشندوں کے مطابق سب سے دل دہلا دینے والا منظر وہ ہے جب ملبے تلے سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں، سینکڑوں انسانی لاشیں اب بھی انہی کھنڈرات کے نیچے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جنگ بندی نافذ، اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ گئیں، شہریوں کا جشن
جنگ کے بعد ہزاروں خاندان اپنے گھروں کے ملبے کے درمیان عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں نہ مناسب پناہ گاہیں ہیں نہ ہی بنیادی سہولیات۔ امدادی سامان کی ترسیل اتوار سے متوقع ہے، جب مصر کی رفح کراسنگ دوبارہ کھولی جائے گی۔
اسرائیلی فوج نے فلسطینی زیتون کے کاشتکاروں کو گرفتار کرلیامقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے الخلیل کے مغرب میں واقع قصبے ترقومیا میں اسرائیلی فوج نے کئی فلسطینی کسانوں کو حراست میں لے لیا اور انہیں اپنی زمینوں پر زیتون کی فصل کاٹنے سے روک دیا۔
فلسطینی سرکاری خبر ایجنسی وفا کے مطابق، ان گرفتاریوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب الخلیل گورنریٹ میں قومی زیتون چنائی مہم کا آغاز کیا گیا — جو ان کسانوں کی حمایت میں تھی جو اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے بار بار حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے کسانوں کو بائی پاس روڈ اور غیر قانونی بستیوں ’ادورا‘ اور ’تیلم‘ کے قریب اپنی زمینوں تک جانے سے روک دیا، ان کی گاڑیاں ضبط کر لیں اور انہیں واپس نہ آنے کی دھمکیاں دیں۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے ان فلسطینی قیدیوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جن کی رہائی جنگ بندی کے قیدیوں کے تبادلے کے تحت متوقع ہے۔
مصر میں بین الاقوامی سربراہی اجلاس کی تیاریاںاسی دوران مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی پر ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مزید پیش رفت کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
قیدیوں کا تبادلہاسرائیل نے حماس کے ساتھ طے پائے معاہدے کے تحت فلسطینی قیدیوں کی منتقلی دو جیلوں میں شروع کر دی ہے، جنہیں جلد رہا کیا جائے گا۔ اسی معاہدے کے تحت غزہ میں زیرِ حراست اسرائیلی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جنگ بندی برقرار، اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی تیاری
خان یونس کے میئر کے مطابق جنوبی گورنریٹ کا 85 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے اور 4 لاکھ ٹن سے زائد ملبہ ہٹانے کے بعد ہی تعمیر نو کا عمل شروع ہو سکے گا۔
امدادی سامان کی ترسیلاقوام متحدہ کے مطابق 1 لاکھ 70 ہزار میٹرک ٹن خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کا سامان سرحدی گزرگاہیں کھلتے ہی غزہ میں داخلے کے لیے تیار ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) نے بتایا کہ ان کے گوداموں میں موجود سامان 6 ہزار ٹرکوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے، تاہم اسرائیلی پابندیوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔
یو این آر ڈبلیو اے کے عہدیدار سام روز کے مطابق اسرائیل کی ’نو کانٹیکٹ پالیسی‘ کے باعث ان کے ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں مل رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس 2 سے 3 ماہ کے لیے پوری آبادی کی خوراک موجود ہے، مگر لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب، وزیراعظم شہباز شریف کل مصر روانہ ہوں گے
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 67 ہزار 806 فلسطینی جاں بحق اور 1 لاکھ 70 ہزار 66 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل کے 1 ہزار 139 شہری ہلاک اور 200 کے قریب افراد حماس کی قید میں چلے گئے تھے۔
اسرائیل نے 2 مارچ کو سابقہ جنگ بندی معاہدہ توڑنے کے بعد تمام سرحدی راستے بند کر دیے تھے، جس کے نتیجے میں غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل امریکا امن معاہدہ جنگ بندی زیتون غزہ فلسطین کاشت کسان گرفتاریاں واپسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا امن معاہدہ زیتون فلسطین کاشت گرفتاریاں واپسی اسرائیلی فوج نے یہ بھی پڑھیں کے درمیان کے مطابق کے بعد کے لیے کے تحت
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔