data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے میں ثالثی کرنے پر ترکیہ، قطر اور مصر کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں  انتہائی اہم اور کلیدی  قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دنیا کو دکھایا کہ طاقت اور امن ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ساتھ ساتھ چلنے والے ساتھی ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ان مذاکرات میں عرب اور مسلم رہنماؤں نے جو کردار ادا کیا وہ قابلِ تعریف ہے، جن میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن، اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق  امریکی ایلچی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو اور اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈیرمر کا بھی شکریہ ادا کیا، تاہم ان کے ناموں کے ذکر پر شرکاء نے نعرے بازی اور ہوٹنگ کی، جب کہ ٹرمپ کا نام لیتے ہی مجمع تھینک یو ٹرمپ  کے نعروں سے گونج اٹھا۔

اس موقع پر اسٹیو وٹکوف کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور بیٹی ایوانکا ٹرمپ بھی موجود تھیں، جنہوں نے بھی قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کانفرنس میں شرکت کی۔

رپورٹس کے مطابق  تل ابیب کے ہاسٹیجز اسکوائر پر منعقدہ اس بڑے اجتماع میں ہزاروں اسرائیلی شریک ہوئے،  یہ ریلی غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے نفاذ سے ایک روز قبل منعقد کی گئی، جس کے تحت قیدیوں کے تبادلے کا عمل شروع کیا جانا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق  غزہ میں اب بھی 48 اسرائیلی قیدی موجود ہیں جن میں سے 20 زندہ ہیں  جبکہ اسرائیل میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی قید ہیں جنہیں تشدد، بھوک اور طبی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

خیال رہےکہ غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ جمعہ دوپہر سے نافذ ہوا، جس کے تحت اسرائیلی فوج نے تدریجی طور پر پیچھے ہٹ کر  ییلو لائن  تک پسپائی اختیار کی اور 72 گھنٹے کی ونڈو میں قیدیوں کے تبادلے کا عمل شروع ہوا۔

دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں ایک نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے، حماس کو غیر مسلح کرنے اور فلسطینیوں کے ساتھ عرب و اسلامی ممالک کے فوجی تعاون پر مبنی مشترکہ فورس کے قیام کی تجویز شامل ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں 67 ہزار 600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جب کہ غزہ کا بیشتر حصہ مکمل طور پر غیر آباد ہو چکا ہے۔

خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رپورٹس کے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل