اسرائیل نے مغربی کنارے میں موجود الجزیرہ کے دفتر کی بندش 7ویں بار بڑھا دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر راملہ میں الجزیرہ کے دفتر کی بندش ایک بار پھر بڑھا دی ہے۔
الجزیرہ عربی کی رپورٹ کے مطابق، یہ 7ویں مرتبہ ہے کہ دفتر کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ نئی پابندی 60 دن کے لیے ہفتے کی صبح سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فوجی کمانڈر کے حکم نامے پر مشتمل ایک نوٹس سٹی سینٹر بلڈنگ کے دروازے پر چسپاں کیا گیا جہاں الجزیرہ کا دفتر واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں جنگ بندی برقرار، اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی تیاری
اسرائیل نے قطری نیوز نیٹ ورک پر دہشت گردوں کی مدد کا الزام عائد کیا ہے کیونکہ الجزیرہ نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی بھرپور کوریج کی ہے۔
اسرائیل نے ستمبر 2024 میں پہلی بار راملہ میں الجزیرہ کے دفتر پر چھاپہ مار کر 45 دن کے لیے بند کیا تھا۔ بعد ازاں مئی 2024 میں چینل پر اسرائیل سے براہِ راست نشریات پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد، الجزیرہ کے صحافیوں کے پریس کارڈ بھی منسوخ کر دیے گئے تھے۔
الجزیرہ نے ان پابندیوں کو دنیا کو مقبوضہ علاقوں کی حقیقی صورتحال اور غزہ میں جاری تباہ کن جنگ کے مناظر دکھانے سے روکنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کا الجزیرہ صحافیوں کے قتل پر اسرائیل سے جواب لینے کا مشورہ
رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے یہ اقدام ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے والے ذرائع ابلاغ کو خاموش کرنا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، غزہ جنگ کے دوران اب تک تقریباً 300 صحافی اور میڈیا ورکرز شہید ہو چکے ہیں، جن میں الجزیرہ کے 10 کارکنان بھی شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل راملہ غزہ مغربی کنار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل راملہ الجزیرہ کے
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔