فہد مصطفیٰ کی دوسری شادی پر حرا سومرو کا معنی خیز ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
مشہور اداکار اور میزبان فہد مصطفیٰ کی دوسری شادی کی افواہوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے جس پر اب اداکارہ حرا سومرو کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے۔
ریڈٹ پر شروع ہونے والی ان افواہوں میں دعویٰ کیا گیا کہ فہد مصطفیٰ نے مبینہ طور پر حنا امان نامی ایک ایسوسی ایٹ پروڈیوسر سے دوسری شادی کرلی ہے۔ اس حوالے سے کسی فہد مصطفیٰ یا ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے اب تک کوئی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم سوشل میڈیا پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
اداکارہ حرا سُومرو نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اس موضوع پر ردِعمل دیا ہے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی فہد مصطفیٰ کے بارے میں کسی منفی بات یا غیر مناسب رویے کی بات نہیں سنی وہ خواتین ساتھی فنکاروں کے ساتھ ہمیشہ احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔
تاہم فہد کی دوسری شادی کے سوال پر حرا سُومرو نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ نہیں جانتیں کہ فہد مصطفیٰ نے واقعی دوسری شادی کی ہے یا نہیں۔
حرا کے مطابق اگر ایسا ہوا بھی ہے تو فہد کی پہلی اہلیہ ایک مضبوط خاتون ہیں اور ممکن ہے وہ اس صورتِ حال کو سمجھداری سے سنبھال لیں گی۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مرد کسی دوسری عورت میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے گرل فرینڈ بنا کر رکھنے سے بہتر ہے کہ اس سے شادی کرلے۔
اداکارہ نے نواجونوں کو مشورہ دیا کہ اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہیں تو اس سے شادی کرلیں جبکہ لڑکیاں ایسے لڑکوں سے سیدھا شادی کا مطالبہ کریں جو یہ کہتے ہیں کہ وہ انہیں پسند کرتے ہیں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فہد مصطفی
پڑھیں:
بھارت میں دوسری شادی پر پابندی، قانون کی خلاف ورزی پر 10 سال قید اور بھاری جرمانہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک متنازع قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت ایک سے زائد شادیوں کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد پہلی شادی کے موجود ہونے کے باوجود دوسری شادی کرنے والے افراد کو سات سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ اگر پہلی بیوی کی اجازت نہ لی گئی ہو تو سزا میں اضافہ ممکن ہے۔
بل کے مطابق پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے والے افراد کو دس سال تک قید ہو سکتی ہے، اور بار بار یہ جرم کرنے پر سزا دگنی کر دی جائے گی۔
اس کے علاوہ دوسری شادی کرنے یا کروانے والے افراد کو سرکاری نوکری یا مقامی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت دینے والے افراد، مثلاً گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست، دو سال قید اور ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانے کے حقدار ہوں گے۔ ساتھ ہی، غیر قانونی شادی کی شکار خواتین کو معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
آسام کے وزیراعلیٰ نے اس قانون کی منظوری کے بعد کہا کہ یہ اقدام اسلام یا کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داریوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک جیسے ترکیہ نے بھی دوسری شادی پر پابندی عائد کی ہے۔
تاہم اس قانون کو متعدد حلقوں میں ذاتی آزادی اور مذہبی روایات پر قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان کمیونٹیز میں جہاں مذہب یا روایت کے تحت دوسری شادی کی اجازت ہے۔ مخصوص قبائل، نسل اور خود مختار علاقوں کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔