غزہ(نیوز ڈیسک)غزہ امن معاہدے کے تحت آج 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے ریڈ کراس کی گاڑیاں غزہ کے علاقے دیرالبلاح پہنچ گئی ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فلسطینی قیدی اسرایئلی جیلوں سے بسوں میں سوار ہو رہے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق معاہدے کے تحت 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے، 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔

حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی فہرست جاری کر دی ہے جبکہ خان یونس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں اور عوام کی بڑی تعداد رہائی کے مقام کے قریب جمع ہو گئی ہے۔

دوسری جانب مصر کے شہر شرم الشیخ میں آج غزہ امن معاہدے پر دستخط کی باقاعدہ تقریب منعقد کی جائے گی، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمت اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے مصر جا رہے ہیں۔

قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ مغویوں کی واپسی کے بدلے میں اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے 1700 سے زائد ایسے قیدی جن پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا، رہا کیے جائیں گے، ان میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب، امدادی سامان سے بھرے ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی کارروائی کے باعث جن فلسطینیوں کو جنوب کی طرف بےدخل کیا گیا تھا، وہ واپس شمالی غزہ جا رہے ہیں تاہم وہاں پہنچنے پر وہ تباہی کے مناظر دیکھ رہے ہیں کیونکہ غزہ شہر ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے رہے ہیں

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم