نجی ٹی وی کیساتھ انٹرویو میں وزیر دفاع نے افغان حملوں کے جواب میں فوجی کارروائی کو فطری قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے رہائشی علاقوں یا شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، ہم نے صرف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا"۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ افغانستان میں حالیہ حملوں کے بعد فی الحال اسلام آباد اور کابل کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ کوئی رابطہ نہیں ہے اور ماحول کشیدہ ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سرحد کے ساتھ "غیر متوقع" افغان حملوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی فعال تنازعہ نہیں ہے، لیکن عوامی سطح پر ماحول کشیدہ ہے اور کوئی دوطرفہ تعلق موجود نہیں ہے۔ خواجہ آصف نے زور دے کر کہا کہ دشمنی اور جنگ "کسی بھی لمحے" دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خطرے میں مذاکرات قابل قبول نہیں، اگر افغانستان مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی پاکستان کو دھمکی دیتا ہے تو اسے پہلے اپنی دھمکیوں پر عمل کرنا چاہیے۔ پاکستانی وزیر دفاع نے افغان حملوں کے جواب میں فوجی کارروائی کو فطری قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے رہائشی علاقوں یا شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، ہم نے صرف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا"۔ انہوں نے افغانستان کو داعش، القاعدہ اور طالبان سمیت متعدد بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ گروہ کابل کی چھتری تلے کام کرتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کے بارے میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں اور محسود کی افغانستان میں موجودگی ثابت ہو چکی ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع نے بھی سفارت کاری میں ایمانداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تجاویز دی گئی ہیں، لیکن سفارت کاری صرف ایمانداری سے ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ مہینوں اور دنوں میں سرحدی حملوں اور سرحدی علاقوں میں مسلح گروپوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے کشیدہ رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور افغان سرزمین پر سرگرم دیگر دہشت گرد گروپ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے اہم ترین مسائل میں سے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے خواجہ آصف حملوں کے کو نشانہ نہیں ہے

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔

دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم