امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب سے قبل ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے کھڑے ہو کر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔یہ موقع ٹرمپ کے اس مختصر دورۂ اسرائیل کے دوران پیش آیا جو انہوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی کامیاب ثالثی کے بعد کیا۔

صدر ٹرمپ آج اسرائیل پہنچے جہاں انہوں نے امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی اور مغویوں کے تبادلے کے معاہدے کو خطے میں پائیدار امن کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیا۔ امریکی صدر کے ہمراہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، داماد جیرڈ کشنر اور بیٹی ایوانکا ٹرمپ بھی موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: وزیرِاعظم شہباز شریف شرم الشیخ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچ گئے

ایئر فورس 1نے تل ابیب کے ہاسٹیجز اسکوائر کے اوپر سے پرواز کی، جہاں ہزاروں افراد جمع تھے۔ اس موقع پر غزہ سے رہائی پانے والے پہلے 7 اسرائیلی مغوی اسرائیل پہنچے، جبکہ معاہدے کے تحت 1,900 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، لوگ اب اس سے تنگ آ چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مجھے یقین ہے یہ جنگ بندی برقرار رہے گی، ان کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے اتحادی گروہوں بشمول حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی حمایت نے امن کی راہ ہموار کی۔

ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ابھی تو غزہ تباہ شدہ علاقہ لگتا ہے، جیسے کسی عمارت کو ڈھا دیا گیا ہو، لیکن میں امید کرتا ہوں کہ ایک دن وہاں جا کر اپنے قدم رکھ سکوں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، عرب اور مسلم ممالک اب اسرائیل-فلسطین تنازع کے دیرینہ حل کی جانب نئے عزم کے ساتھ بڑھ رہے ہیں، اور کئی ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا تاریخی معاہدہ طے پاگیا

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس اسرائیل کے تمام 20 زندہ یرغمالی رہا کردیے ہیں جبکہ سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی، اور اسرائیلی افواج کی جزوی واپسی بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔

ٹرمپ اپنے دورے کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ کنسٹ سے خطاب کریں گے، یہ اعزاز آخری بار 2008ء میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو دیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ بعد ازاں مصر روانہ ہوں گے، جہاں وہ صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ شرم الشیخ میں ایک عالمی امن کانفرنس کی صدارت کریں گے، جس میں 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔

اسرائیل اور مصر دونوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کو اپنے ممالک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ غزہ فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام