امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ میں استقبال، ملک کا اعلیٰ ترین ایوارڈ بھی دیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب سے قبل ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے کھڑے ہو کر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔یہ موقع ٹرمپ کے اس مختصر دورۂ اسرائیل کے دوران پیش آیا جو انہوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی کامیاب ثالثی کے بعد کیا۔
صدر ٹرمپ آج اسرائیل پہنچے جہاں انہوں نے امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی اور مغویوں کے تبادلے کے معاہدے کو خطے میں پائیدار امن کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیا۔ امریکی صدر کے ہمراہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، داماد جیرڈ کشنر اور بیٹی ایوانکا ٹرمپ بھی موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیرِاعظم شہباز شریف شرم الشیخ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچ گئے
ایئر فورس 1نے تل ابیب کے ہاسٹیجز اسکوائر کے اوپر سے پرواز کی، جہاں ہزاروں افراد جمع تھے۔ اس موقع پر غزہ سے رہائی پانے والے پہلے 7 اسرائیلی مغوی اسرائیل پہنچے، جبکہ معاہدے کے تحت 1,900 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، لوگ اب اس سے تنگ آ چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مجھے یقین ہے یہ جنگ بندی برقرار رہے گی، ان کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے اتحادی گروہوں بشمول حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی حمایت نے امن کی راہ ہموار کی۔
ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ابھی تو غزہ تباہ شدہ علاقہ لگتا ہے، جیسے کسی عمارت کو ڈھا دیا گیا ہو، لیکن میں امید کرتا ہوں کہ ایک دن وہاں جا کر اپنے قدم رکھ سکوں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، عرب اور مسلم ممالک اب اسرائیل-فلسطین تنازع کے دیرینہ حل کی جانب نئے عزم کے ساتھ بڑھ رہے ہیں، اور کئی ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا تاریخی معاہدہ طے پاگیا
جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس اسرائیل کے تمام 20 زندہ یرغمالی رہا کردیے ہیں جبکہ سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی، اور اسرائیلی افواج کی جزوی واپسی بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔
ٹرمپ اپنے دورے کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ کنسٹ سے خطاب کریں گے، یہ اعزاز آخری بار 2008ء میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو دیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ بعد ازاں مصر روانہ ہوں گے، جہاں وہ صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ شرم الشیخ میں ایک عالمی امن کانفرنس کی صدارت کریں گے، جس میں 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔
اسرائیل اور مصر دونوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کو اپنے ممالک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔