جمہوریت کے ساتھ مذاق ہو رہا، تاخیری حربے استعمال نہ کیے جائیں، علی امین گنڈاپور کا اسمبلی سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہیئے۔ موجودہ موقف اور جدوجہد کامیابی تک جاری رہے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس جنگ میں کامیابی حاصل کریں گے۔ گزشتہ اقتدار کے دوران عمران خان کے حکم پر اسی دن استعفیٰ بھی دے دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: گورنر خیبر پختونخوا نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اعتراض لگا کر واپس کردیا
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کہنے پر اسی دن استعفیٰ دیا تھا، جمہوریت کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے، اس عمل میں کم از کم تاخیری حربے استعمال نہ کرے، ہماری پارٹی ہماری مرضی، ہمارا لیڈر اور ان کا فیصلہ۔
اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران مالیاتی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب میں وزیراعلیٰ بنا تو خزانہ خالی تھا مگر اب خزانے میں 280 ارب روپے موجود ہیں۔ بحیثیتِ وزیراعلیٰ جو بھی فیصلے کیے گئے وہ سب ریکارڈ پر ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ان کی جدوجہد عمران خان کے لیے ہے کیونکہ وہ اس قوم کی جنگ لڑ رہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ سب کو ملکی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے لیے وہ اپنی ذات سے بالاتر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: دونوں استعفوں پر موجود دستخط میرے ہی ہیں، گورنر کے اعتراض لگانے پر علی امین گنڈاپور کا ردعمل
انہوں نے تمام فریقین کو مشورہ دیا کہ سب مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں اور آگے بڑھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استعفی اسمبلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفی اسمبلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور علی امین گنڈاپور کہا کہ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔