Daily Pakistan:
2026-07-23@23:53:11 GMT

دونوں استعفوں پردستخط مستند ہیں : علی امین گنڈا پور  

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

دونوں استعفوں پردستخط مستند ہیں : علی امین گنڈا پور  

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے استعفوں میں دستخط کے فرق پر اٹھائے گئے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 8 اور 11 اکتوبر کو جمع کرائے گئے دونوں استعفے ان کے مستند دستخطوں کے ساتھ ہیں۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ 8 اکتوبر کو جمع کرایا گیا استعفیٰ گورنر آفس پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے اس کے باوجود اب اس پر اعتراضات اٹھانا حیران کن ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنے ردعمل میں مزید کہا کہ میں دوبارہ واضح کر رہا ہوں کہ 8 اکتوبر اور 11 اکتوبر 2025 کو جمع کرائے گئے دونوں استعفے میرے اصل اور مستند دستخطوں کے ساتھ ہیں۔ اس میں کسی قسم کا ابہام یا تضاد نہیں۔

گورنر کے پی کے نے علی امین گنڈا پور کے استعفوں پر اعتراض اٹھا دیا 

واضح رہے کہ یہ بیان گورنر خیبرپختونخوا کے اُس مؤقف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دونوں استعفوں میں دستخط ایک جیسے نہیں لگتے، اس لیے 15 اکتوبر کو گورنر ہاؤس میں علی امین گنڈاپور سے ملاقات کے بعد دستخطوں کی تصدیق کے تناظر میں فیصلہ کیا جائے گا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: علی امین

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا