دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مستقبل کی جنگیں مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی جیتی جائیں گی: جنرل ساحر شمشاد مرزا کا الوداعی خطاب
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ دنیا کی موجودہ صورتِحال نہایت تیزی سے بدل رہی ہے، اور یہ تبدیلیاں پاکستان کے اندرونی و بیرونی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ مستقبل کی جنگیں مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی جیتی جائیں گی۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز میں اپنے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب سے خطاب کیا۔ تقریب میں اعلیٰ عسکری شخصیات، سینئر افسران اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد مرزا کی الوداعی تقریب، 40 سالہ عسکری خدمات پر خراجِ تحسین
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز ہائبرڈ محاذ آرائی سے لے کر روایتی جنگ تک پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے مسلح افواج کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ وہ آپس میں ہم آہنگی، مشترکہ تعاون اور یکسو مقصد کے تحت تیاری برقرار رکھیں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، نشان امتیاز (ملٹری) کا اپنے اعزاز میں منعقدہ جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر میں الوادعی تقریب سے خطاب @AmirSaeedAbbasi @asifbashirch @KulAalam pic.
— Media Talk (@mediatalk922) November 27, 2025
ان کے مطابق تینوں افواج کے درمیان جوائنٹ نیس (Jointness) اب محض ایک خواہش نہیں بلکہ مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مرکزی اور ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے مزید کہا کہ ایک مکمل بااختیار، جدید صلاحیتوں سے لیس اور مشترکہ حکمتِ عملی پر کاربند مسلح افواج ریاست کے دفاع کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کی جنگیں مربوط سوچ، ٹیکنالوجیکل تیاری اور بین الافواج تعاون سے ہی جیتی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا نیول ہیڈکوارٹرز کا الوداعی دورہ
خطاب کے اختتام پر انہوں نے تینوں مسلح افواج، بالخصوص جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ آنے والا ڈھانچہ جس شکل میں بھی تشکیل پائے، اسے نئی ذمہ داریاں ایمانداری، دیانت اور عزم کے ساتھ نبھانی چاہییں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الوداعی خطاب جنرل ساحر شمشاد مرزا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الوداعی خطاب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔