اسلام آباد:

وزیرِاعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر شرم الشیخ روانہ ہوگئے جہاں وہ غزہ جنگ بندی کے لیے امن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وزیرِاعظم کے ہمراہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی، ترکیہ کے صدر رجب طیب اِردوان سمیت متعدد عالمی رہنما شریک ہوں گے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف دیگر ممالک کے رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہوں گے۔ یہ اجلاس صدر ٹرمپ، وزیرِاعظم شہباز شریف اور عرب و اسلامی ممالک کے رہنماؤں کی ان کوششوں کا تسلسل ہے جو انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے کی تھیں۔

اس موقع پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں وزیرِاعظم شہباز شریف سمیت متعدد ممالک کے سربراہان نے امریکی صدر کے پیش کردہ غزہ میں پائیدار امن، ترقی اور انسانی تحفظ کے منصوبے کا خیرمقدم کیا۔

وزیرِاعظم کی اس اجلاس میں شرکت پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی عکاسی کرتی ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ، جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ہر سطح پر سیاسی و سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

پاکستان کو امید ہے کہ اس امن معاہدے کے بعد غزہ میں مظالم کا خاتمہ، اسرائیلی افواج کا انخلا، فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور متاثرہ علاقوں کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گے بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ بھی ہموار کریں گے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر اعظم شہباز شریف

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری