فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات سے متعلق قوانین میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ’’پبلک سرونٹ‘‘ یعنی ’’سرکاری عہدیدار‘‘ کی نئی تعریف جاری کر دی ہے۔

ایف بی آر نے ایک نیا قانون تیار کیا ہے جس کے تحت اب حکومت کو بڑی تعداد میں سرکاری افسروں کے اثاثوں کی تفصیلات معلوم کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ ایف بی آر نے اس حوالے سے بدھ کی رات جاری ایک ایس آر او ”1912/2025“ کے ذریعے ”شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف ایسیٹس آف سول سرونٹس رولز 2023“ میں ترمیم کا مسودہ جاری کیا۔

پہلے یہ قانون صرف ان سرکاری ملازمین پر لاگو ہوتا تھا جو ”سول سرونٹس ایکٹ 1973“ کے تحت کام کرتے تھے، یعنی وہ ملازمین جو وفاقی یا صوبائی حکومت کے محکموں میں براہِ راست تعینات ہوتے تھے۔

لیکن اب ایف بی آر نے ’’پبلک سرونٹ‘‘ یعنی ’’سرکاری عہدیدار‘‘ کی تعریف بڑھا دی ہے۔ نئی تعریف کے مطابق، صرف محکموں کے افسران ہی نہیں بلکہ وہ افسران بھی سرکاری عہدیدار شمار ہوں گے جو حکومت کے زیرِ انتظام خودمختار اداروں، کارپوریشنز یا سرکاری کمپنیوں میں کام کرتے ہیں، بشرطیکہ ان کا گریڈ 17 یا اس سے اوپر ہو۔

نئی تعریف کے مطابق، ’’پبلک سرونٹ‘‘ میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت کام کرنے والے افسران بھی شامل ہوں گے، البتہ وہ افراد اس میں شامل نہیں ہوں گے جو نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس 1999 کی شق 5 کے ذیلی کلاز (iv) میں مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔

سادہ الفاظ میں یہ سمجھیں کہ اب حکومت کے تمام بڑے افسر چاہے وہ کسی وزارت میں ہوں، کسی خودمختار ادارے میں، یا کسی سرکاری کمپنی میں، انہیں اپنے اثاثوں (جائیداد، گاڑیاں، بینک اکاؤنٹس وغیرہ) کی تفصیلات دینا ہوں گی۔

یہ قانون اب صرف وزارتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ واپڈا، پی آئی اے، این ٹی ڈی سی، یا کسی صوبائی کارپوریشن کے اعلیٰ افسران بھی اس کے دائرے میں آئیں گے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے سرکاری نظام میں شفافیت بڑھے گی، کرپشن کی روک تھام ہوگی، اور حکومت کو پتہ چل سکے گا کہ کون سا افسر اپنی آمدن سے زیادہ اثاثے تو نہیں رکھتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایف بی آر نے پبلک سرونٹ

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا