اسلام آباد: سرکاری ادارے کے ڈائریکٹر لینڈ کو بلیو ایریا میں قتل کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈ کو بلیو ایریا میں قتل کردیا گیا۔
ایف جی ای ایچ اے کے ڈائریکٹر لینڈ احسان الہٰی کو گزشتہ رات بلیوایریا میں اُس وقت فائرنگ کرکے قتل کیا گیا جب وہ ہوٹل سے کھانا کھا کر باہر نکل رہے تھے، عینی شاہدین کے مطابق دو موٹر سائیکل سواروں نے احسان الہیٰ کو گولیاں ماریں۔
احسان الہٰی 2024 سے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) میں بطور ڈائریکٹر لینڈ اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
ترجمان ایف جی ای ایچ اے نے لینڈ مافیا کو قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ احسان الہٰی کی محنت کی بدولت 26 کو ایف جی ای ایچ اے، ایس سی بی اے پی (SCBAP)اور ڈی ایچ اے کے درمیان سہ فریق معاہدہ مارگلہ آرچرڈ طے پایا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ لینڈ مافیا کی طرف سے ٹارگٹ کلنگ لگتی ہے، ایف جی ای ایچ اے اپنے قابل افسر کے اس طرح قتل کی مذمت کرتا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کریں۔
وفاقی وزیر ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ نے پمز اسپتال کا دورہ کرکے مقتول کے ورثاء سے ملاقات کی اور اظہار ہمدردی کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے احسان الہٰی کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ قتل میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے، مقتول کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
دریں اثنا تھانہ کوہسار پولیس نے احسان الہی کے قتل کا مقدمہ مقتول کے بھائی وقاص الہیٰ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کیخلاف درج کرلیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ایف جی ای ایچ اے ڈائریکٹر لینڈ احسان الہ ی
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔