ادارہ جاتی تاخیر برداشت نہیں، نجکاری عمل کی خود نگرانی کروں گا، وزیرِاعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری پر اہم اجلاس ہوا، جس میں 24 میں سے 15 اداروں کی نجکاری سے متعلق پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔
وزیرِاعظم نے ہدایت دی کہ نجکاری کے عمل میں قومی مفاد، شفافیت اور اداروں کی پیشہ وارانہ استعداد میں بہتری کو یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا 3 مراحل میں 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور سرکاری اداروں کی اندرونی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ ادارہ جاتی تاخیر یا سرخ فیتے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور وہ خود نجکاری کے عمل کی نگرانی کریں گے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا احد چیمہ، اویس لغاری، بلال اظہر کیانی اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نجکاری وزیراعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نجکاری وزیراعظم محمد شہباز شریف اداروں کی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔