وفاقی حکومت کا گندم پالیسی کا نیا ڈرافٹ، چاروں صوبوں سے رائے طلب
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ وفاقی حکومت نے گندم سے متعلق نئی پالیسی کا ڈرافٹ تیار کرلیا جس کے تحت گندم کی امدادی قیمت 3400فی من مقرر کرنے اور نجی شعبے کو گندم خریدنے کا لائسنس جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ڈرافٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے گندم پالیسی کا نیا ڈرافٹ چاروں صوبوں کو رائے کے لیے ارسال کردیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف صوبوں کی آراءجاننے کے لیے آن لائن اجلاس طلب کریں گے۔
ڈرافٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی شعبے کو گودام فراہم کرنے اورامدادی قیمت پر گندم خریدنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے اس کے علاوہ گندم کی بین الصوبائی منتقلی صوبائی حکومتوں کی اجازت سے مشروط ہوگی۔
سرکاری ڈرافٹ میں رواں سال ساڑھے 62 لاکھ ٹن گندم خریدنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ پنجاب کو 25 لاکھ اورسندھ کو 10 لاکھ ٹن گندم خریدنے کی تجویز ہے، خیبر پختونخوا کوساڑھے 7 لاکھ اور بلوچستان کو 5 لاکھ ٹن خریدنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے اجلاس کے بعد قیمت اورہدف مقرر ہوگا۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اکثر فرانسیسیوں کی رائے ہے کہ روس ان کے ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، سروے
سرکاری ویب سائٹ پر شائع شدہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 56 فیصد فرانسیسی سمجھتے ہیں کہ فوج کے سربراہ نے ایسے بیانات دے کر غلطی کی ہے اور اس معاملے کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک تازہ سروے کے نتائج کے مطابق، فرانس کے 67 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ روس ان کے ملک پر براہِ راست اور فوجی حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، اور فرانسیسی فوج کے سربراہ کی اس بارے میں وارننگ بے بنیاد اور ماسکو کی جانب سے خطرے کی مبالغہ آمیز تصویر پیش کرنا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق، خبر رساں ادارے "نووستی" نے رپورٹ دیا کہ سروے ادارے Elabe کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصف سے زیادہ فرانسیسی عوام کا ماننا ہے کہ فرانسیسی مسلح افواج کے سربراہ فابیَن ماندون کو روس کے مبینہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ’’اولاد کی قربانی کے لیے تیار رہنے‘‘ اور ’’معاشی مشکلات برداشت کرنے‘‘ جیسے بیانات نہیں دینے چاہئیں تھے۔ اس ادارے کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع شدہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ "56 فیصد فرانسیسی سمجھتے ہیں کہ فوج کے سربراہ نے ایسے بیانات دے کر غلطی کی ہے اور اس معاملے کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔" سروے کے مطابق، 67 فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ روس آئندہ برسوں میں براہِ راست اور فوجی طور پر فرانس پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم، 75 فیصد افراد کا خیال ہے کہ روس سائبر حملوں، تخریب کاری، فضائی حدود میں ڈرون بھیجنے اور سوشل میڈیا پر معلومات میں ردوبدل جیسے اقدامات میں ملوث ہوسکتا ہے—وہ الزامات جنہیں ماسکو کئی بار رد کر چکا ہے۔ اس سے قبل ماندون نے دعویٰ کیا تھا کہ فرانس کو روس کی جانب سے ممکنہ فوجی خطرات کے لیے "سنجیدگی سے" تیار رہنا چاہیے اور فرانسیسی فوج کو ناٹو اور روس کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ روس نے ’’کھٹملوں کے بحران‘‘ کے بعد فرانس کے داخلی حالات کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب گزشتہ ہفتے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیون وِٹکاف نے کہا تھا کہ روس کا یورپ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی معلومات کے مطابق ماسکو کے پاس یورپی ممالک پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، اور روس کی توجہ یوکرین کی صورتِ حال پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "روس کے یورپ پر قریب الوقوع حملے" کی بحث زیادہ تر مغربی میڈیا اور بعض سیاسی حلقوں میں پھیلائی جا رہی ہے جو زمینی حقائق اور روس کے اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ روس کا یورپ یا نیٹو ممالک پر حملہ کرنے کا کسی قسم کا ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق، مغربی ممالک میں روس کی فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ کے بارے میں پھیلائی جانے والی باتیں محض کچھ سیاستدانوں کی اختراع ہیں، جو روس کی پالیسیوں کے برعکس ہیں۔ لاوروف نے زور دیا کہ روس یورپی ممالک سے الجھنا نہیں چاہتا اور یہ الزامات صرف خوف کی فضا پیدا کرنے اور مغربی ملکوں کے عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بھی چند ماہ قبل مشہور امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے انٹرویو میں وضاحت کی تھی کہ روس کا نیٹو ممالک پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں اور ایسا کرنا بالکل بے معنی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سیاستدان ’’روس کے خیالی خطرے‘‘ کا خوف پھیلا کر اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ ’’باشعور لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دعوے جعلی اور بے بنیاد ہیں۔