وزارتِ بحری امور کا سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے 9 کروڑ روپے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے 9 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر کے مطابق جھینگا مچھلی کے جالوں میں پھنسنے والے کچھوؤں کو بچانے کے لیے جدید حفاظتی آلات نصب کیے جائیں گے، جو ماہی گیروں کو بلا معاوضہ فراہم کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:پاکستانی ساحل پر نایاب کچھوے زہریلے صنعتی فضلے کا شکار، ذمہ دار کمپنیوں پر جرمانہ
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ منصوبہ سمندری حیاتیات کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام سے جھینگا برآمدات میں 3 گنا اضافہ متوقع ہے، جو اس وقت سالانہ قریباً 100 ملین ڈالر ہیں۔
مزید پڑھیں: شرارتی کچھوے نے لندن کے فلیٹ میں آگ لگادی، فائر بریگیڈ کی دوڑیں
انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے سے پاکستان کی مصنوعات کو امریکی، یورپی اور خلیجی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ پائیدار ماہی گیری کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے پاکستان کی سمندری مصنوعات کی عالمی ساکھ میں مزید بہتری آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنید انوار چوہدری سمندری کچھوؤں سمندری کچھوے ماہی گیری وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنید انوار چوہدری سمندری کچھوؤں سمندری کچھوے ماہی گیری وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری جنید انوار چوہدری کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔