آج کسی وقت غزہ جنگ بندی کا اعلان کیا جا سکتا ہے، ترک وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ میڈیا سے گفتگو میں ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات میں دونوں فریقوں نے فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے غیر معمولی سنجیدگی اور عزم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ امن مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی افواج کے انخلا کی حدود اور شرائط، غزہ میں امداد کی فراہمی اور ممکنہ جنگ بندی کے اصول و ضوابط پر بات کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترک وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اتفاقِ رائے آج ممکن ہے، اگر ایسا ہو جاتا ہے تو شام تک غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ ترک خبررساں ادارے کے مطابق وزیر خارجہ حاکان فیدان نے اس بات کا امکان ایک پریس کانفرنس میں شامی ہم منصب کے ساتھ میڈیا سے گفتگو میں ظاہر کیا۔ ترک وزیرِ خارجہ ان دنوں شام کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مصر میں جاری امن مذاکرات میں دونوں فریقوں نے فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے غیر معمولی سنجیدگی اور عزم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ امن مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی افواج کے انخلا کی حدود اور شرائط، غزہ میں امداد کی فراہمی اور ممکنہ جنگ بندی کے اصول و ضوابط پر بات کی گئی ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ان نکات پر "اب تک نمایاں پیش رفت" ہوئی ہے اور امید ہے کہ جلد کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔ ادھر ترک صدر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے ساری شرائط حماس پر لادنا درست نہیں، اسرائیل کو بھی غزہ پر بمباری بند کرنا ہوگی۔ صدر طیب اردوان نے مزید بتایا کہ حماس نے امن مذاکرات کے لیے مثبت رویہ اپنایا ہے، جسے میں ایک نہایت اہم قدم سمجھتا ہوں، حماس اس معاملے میں اسرائیل سے آگے ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات آج تیسرے دن میں داخل ہوگئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیدیوں کی رہائی امن مذاکرات
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔