مذاکرات میں پیش رفت، حماس اور اسرائیل کے مابین قیدیوں و یرغمالیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
قاہرہ میں جاری غزہ جنگ بندی مذاکرات کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حماس کے سینئر رہنما طاہر النونو نے بدھ کے روز بتایا کہ حماس اور اسرائیل کے مذاکرات کاروں نے قیدیوں اور یرغمالیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے، جو کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں رہا کیے جائیں گے۔
النونو نے کہا کہ حماس مذاکرات میں مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے پر امید ہے۔
بدھ کو قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن، امریکہ کے خصوصی مشرقِ وسطیٰ ایلچی اسٹیو وٹکوف، اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں تیسرے روز جاری ان مذاکرات میں شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:
یہ بالواسطہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ ماہ پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، جس میں جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کی تجاویز شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقی موقع ہے کہ ہم کچھ کر سکتے ہیں۔
’ممکن ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہو، اور یہ صرف غزہ کے مسئلے سے آگے کی بات ہے۔ ہم فوری طور پر تمام یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں:
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا کہ تمام فریق اس پر عمل کریں۔
دریں اثنا، عالمی سطح پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غزہ کے بیشتر علاقے تباہ ہو چکے ہیں، اقوامِ متحدہ قحط کا اعلان کر چکی ہے، اور اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے گزشتہ ماہ اسرائیل پر ’نسل کشی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔
مزید پڑھیں:
گزشتہ ہفتے کے آخر میں اٹلی، اسپین، آئرلینڈ اور برطانیہ سمیت دنیا بھر کے مختلف شہروں میں لاکھوں افراد نے فلسطین کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
نیدرلینڈز میں مظاہرین نے حکومت سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ برطانیہ میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی اپیل کے باوجود ریلیوں میں شرکت کی اور 7 اکتوبر کی مناسبت سے اجتماعات منعقد کیے۔
حماس کے سینیئر مذاکرات کار خلیل الحیہ نے کہا کہ ان کا گروپ صدر ٹرمپ اور ثالث ممالک سے اس بات کی واضح ضمانتیں چاہتا ہے کہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 67 ہزار 160 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جنہیں اقوام متحدہ قابلِ اعتبار اعداد و شمار قرار دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اقوام متحدہ جنگ بندی حماس صدر ٹرمپ غزہ فلسطین مذاکرات نسل کشی وائٹ ہاؤس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ فلسطین مذاکرات وائٹ ہاؤس یرغمالیوں کی اور اسرائیل کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔