قاہرہ مذاکرات میں اہم پیشرفت، اسرائیل اور حماس میں قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
مصر میں اسرائیلی اورفلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جاری بالواستہ مذاکرات کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ، حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے لیے ناموں کی فہرست متعلقہ فریقین کے حوالے کردی ۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں بدھ کے روز اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جب فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے قیدیوں کی فہرست ثالثی ممالک کے حوالے کی اور مذاکرات میں شریک تمام فریقین نے ’امید‘ کی فضا کا اظہار کیا ہے۔
حماس نے بیان میں کہا ہے کہ “ہم ،صدر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے پر جاری مذاکرات سے پُرامید ہیں اور ہم نے، معاہدے کے تحت رہا کئے جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے ناموں کی، فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے ۔
یاد رہے کہ مذاکرات پیر کے روز مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں شروع ہوئے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی منصوبے کے تحت ہو رہے ہیں۔
اس منصوبے میں جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلا، حماس کا غیر مسلح ہونا اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔ منصوبے کے تحت 72 گھنٹوں کے اندر تمام 48 یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے، جن میں کم از کم 26 کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
حماس کے اعلیٰ رہنما طاہر النونو اور خلیل الحیہ بھی شرم الشیخ میں موجود ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ”تمام فریقین کے درمیان امید کی فضا ہے، اور ثالث جنگ بندی کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔“
امریکی صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کُشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بدھ کے روز مصر پہنچے، جس سے مذاکرات کی سنجیدگی اور پیش رفت کا اندازہ ہوتا ہے۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی، ترکی کے خفیہ ادارے کے سربراہ ابراہیم کالن، اور اسرائیلی وزیر رون ڈرمر سمیت کئی اہم شخصیات بھی مذاکرات میں شامل ہیں۔
حماس کے اعلیٰ رہنما طاہر النونو اور خلیل الحیہ بھی شرم الشیخ میں موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تمام فریقین کے درمیان امید کی فضا ہے، اور ثالث جنگ بندی کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
طاہر النونو کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ثالث جنگ بندی کے نفاذ کے مراحل میں کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کیلیے کوششیں کر رہے ہیں اور تمام فریقین میں امید کا ماحول ہے۔
حماس رہنما نے بتایا کہ مذاکرات جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار، غزہ کی پٹی سے قابض اسرائیلی افواج کے انخلا اور قیدیوں کے تبادلے پر مرکوز ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ رہا کیے جانے والے قیدیوں کی فہرستیں آج متفقہ معیار اور تعداد کے مطابق تبادلہ کی گئیں، تمام فریقین اور ثالثوں کی شرکت سے بالواسطہ مذاکرات آج بھی جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حماس نے اپنی قیدیوں کی فہرست میں ان فلسطینیوں کے نام شامل کیے ہیں جو اسرائیلی جیلوں میں عمر قید کاٹ رہے ہیں، جن پر سنگین دہشت گردی کے الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ، حماس اپنے مقتول رہنماؤں یحییٰ السنوار اور محمد السنوار کی باقیات کی واپسی کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ یحییٰ سنوار 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیلی حملے کے مرکزی منصوبہ ساز تھے اور 2024 میں اسرائیلی کارروائی میں مارے گئے تھے۔
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ہے، جسے تنظیم مسلسل مسترد کرتی آ رہی ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ حماس ہتھیار ڈالے اور غزہ کی انتظامیہ ایک بین الاقوامی فورس کے حوالے کی جائے، تاہم حماس کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اُس وقت ہتھیار ڈالے گی جب ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مذاکرات میں قیدیوں کی کے حوالے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔