اسلام آباد‘ برسلز‘ مدینہ منورہ (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) پاکستان اور یورپی یونین نے7 ویں سٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد برسلز میں کیا جس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ اور نائب صدر کاجا کالس نے کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں پاکستان۔یورپی یونین تعلقات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا، حالیہ اعلیٰ سطح کی مصروفیات اور پائیدار ادارہ جاتی معاملات کی مثبت رفتار کو آگے بڑھایا گیا۔ اجلاس میں فریقین نے مشترکہ اقدار، اقوام متحدہ کے چارٹر، کثیرالجہتی اور باہمی احترام اور تعاون کے اصولوں پر مبنی وسیع البنیاد، کثیر الجہتی اور مستقبل کے حوالے سے شراکت داری کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات بشمول یورپی یونین کے جی ایس پی پلس انتظامات کے ذریعے پائیدار ترقی، برآمدی تنوع، روزگار کی تخلیق اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی مواقع کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ سٹریٹجک ڈائیلاگ نے جنوبی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی پیش رفت سمیت علاقائی اور عالمی پیش رفت پر خیالات کے تبادلے کا موقع بھی فراہم کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث بین الاقوامی بحری راستوں کے سنگم پر واقع ہے اور بحیرہ عرب ملک کی قومی سلامتی، رابطہ کاری، معاشی استحکام اور غذائی و توانائی کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، کراچی سے گوادر تک پاکستان کی بندرگاہیں وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے خطّے کو عالمی تجارت سے جوڑنے والے اہم دروازے ہیں۔ہفتہ کو ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق چوتھے یورپی یونین انڈو پیسفک وزارتی فورم کے دوران بحری اہم تنصیبات، روابط اور ترقی سے متعلق اپنے بیان میں نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے کہا کہ آج کے بحری خطرات کثیرالجہتی اور سرحدوں سے ماورا ہیں، جن میں بحری قزاقی، دہشت گردی، اسلحہ و منشیات کی سمگلنگ، بندرگاہی ڈھانچے کو سائبر حملوں کا خطرہ، سمندری آلودگی اور موسمیاتی تغیرات سے ساحلی علاقوں کو درپیش چیلنجز شامل ہیں۔ بحری شعبے میں مضبوط تعاون، معلومات کے تبادلے، آگاہی اور بروقت انتباہی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے مشترکہ بحری معلوماتی رابطہ مرکز کو سپارکو کے تعاون سے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جہاز رانی کے نظام سے مزید مضبوط بنایا ہے اور ملک اپنے شراکت داروں کے ساتھ اس شعبے میں مزید تعاون کا خواہاں ہے۔ پاکستان یورپی یونین اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ تکنیکی تعاون، قواعد و ضوابط کے تبادلے اور اہم بحری تنصیبات کے تحفظ کے لیے صلاحیت سازی کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دریں اثناء نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے برسلز میں چوتھے یورپی یونین انڈو پیسیفک فورم کے موقع پر اٹلی کے وفد کے سربراہ اینڈریا اوریزیو سے ملاقات کی۔ دوران گفتگو میں پاکستان۔اٹلی تعلقات کو مضبوط بنانے، اقتصادی روابط کو بڑھانے اور پاکستان۔یورپی یونین کے وسیع تر فریم ورک کے تحت تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن اور بنگلہ دیش کے سفیر خندکر مسعود العالم سے ملاقات کے دوران انہوں نے باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے مثبت بات چیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثناء سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام عبدی علی سے برسلز میں چوتھے یورپی یونین انڈو پیسفک وزارتی فورم کے موقع پر ملاقات کے دوران تعمیری تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے کروشیا کے وزیر خارجہ گورڈن ریڈمین سے چوتھے یورپی یونین انڈو پیسفک وزارتی فورم کے موقع پر ملاقات کی۔ انہوں نے علاقائی اور عالمی صورتحال، سیاسی اور اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے سمیت دو طرفہ اور کثیر جہتی فورمز پر پاک۔کروشین مصروفیت کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا.

نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے  کروشین وزیر خارجہ کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ اسحاق ڈار نے یورپی یونین انڈو پیسیفک وزارتی فورم کے  موقع پر مالدیپ کے وزیر خارجہ عبداللہ خلیل سے بھی ملاقات کی۔ وزیر خارجہ و نائب  وزیراعظم بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ سے بھی ملے اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے برسلز سے پاکستان واپسی پر مدینہ منورہ میں مختصر قیام کیا۔ اسحاق ڈار نے روضہ رسولؐ پر حاضری دی اور نوافل ادا کئے۔ انہوں نے کہا پاکستان اور قوم کے امن‘ خوشحالی اور ترقی کیلئے خصوصی دعائیں کیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے تبادلہ خیال کیا وزارتی فورم کے کے وزیر خارجہ انہوں نے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم