UrduPoint:
2026-07-24@09:01:30 GMT

بھارت: ریاست کیرالہ میں حجاب کا تنازعہ کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

بھارت: ریاست کیرالہ میں حجاب کا تنازعہ کیا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 اکتوبر 2025ء) بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک کرسچن اسکول میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے کا ایک تنازعہ سرخیوں میں ہے، تاہم بدھ کے روز اس میں ایک نیا موڑ اس وقت دیکھنے میں آیا، جب سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور ریاست کے وزیر تعلیم وی سیوان کٹی کو اپنی ہدایات واپس لینا پڑیں۔

منگل کے روز ریاستی وزیر نے ریاست کے ایک عیسائی مشنری اسکول کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ مسلم طالبہ کو حجاب پہن کر اسکول آنے کی اجازت دے، تاہم بدھ کے روز انہوں نے اپنے اس حکم نامے کو واپس لے لیا۔

معاملہ کیا ہے؟

کیرالہ کے شہر کوچی کے سینٹ ریٹا پبلک اسکول کے اہلکاروں کا 'حجاب' پہننے کے حوالے سے آٹھویں جماعت کی طالبہ کے والدین کے ساتھ تنازعہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ ہنگاموں کے پیش نظر پیر کے روز دو دن کی چھٹی کا اعلان کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے اسکول کی پرنسپل نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا تھا کہ چونکہ ایک طالبہ اسکول کے یونیفارم کے بغیر آئی تھیں، جس کی وجہ سے کافی ہنگامہ ہوا اور طالبہ کے والدین اور اسکول سے وابستہ کچھ افراد کے دباؤ کے بعد اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسکول کی انتظامیہ نے اس مسئلے پر ریاستی ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا اور جب یہ معاملہ سوشل میڈیا میں آیا تو اس پر ریاستی سطح پر سیاست ہونے لگی اور دو روز سے اسکول میں حجاب کے حوالے سے کافی گرما گرم بحث و مباحثہ جاری تھا۔

ریاستی حکومت کا اقدام

منگل کے روز ریاستی وزیر سیوان کٹی نے کوچی میں سی بی ایس ای سے منسلک ادارے سینٹ ریٹا پبلک اسکول کو ہدایت کی تھی کہ وہ مذکورہ طالب علم کو حجاب پہننے اور اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے، جبکہ اسکول کے حکام کا اصرار تھا کہ حجاب کی اجازت دینا یونیفارم کے خلاف ورزی ہے۔

احتجاج کے پیش نظر اسکول کی انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے ایک عبوری حکم میں ادارے کے لیے پولیس کا تحفظ بھی حاصل کر لیا تھا۔ تاہم ریاستی حکومت نے اسکول کو حکم جاری کیا کہ چونکہ کیرل ایک سکیلور ریاست ہے، اس لیے طالبہ کو حجاب کے ساتھ اسکول آنے کی اجازت دی جائے۔

ریاستی وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ کیرالہ میں کسی بھی طالب علم کو ایسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے، جو سیکولر اقدار کو برقرار رکھتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کسی تعلیمی ادارے کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تاہم بعض مقامی رہنماؤں نے طالبہ کے والد سے ملاقات کی اور معاملہ حل ہو گیا۔ بھارتی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق طالبہ کے والد نے مقامی میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ان کی بیٹی اسکول کے ڈریس کوڈ پر عمل کرے گی۔

ان کا کہنا تھا، "میری بیٹی یونیفارم کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اسی اسکول میں پڑھتی رہے گی۔

میں یہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ کچھ حلقوں کی جانب سے اس مسئلے کو سیاسی استحصال کے لیے استعمال کیا جائے۔"

بدھ کے روز ریاستی وزیر شیون کٹی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا، "مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسکول کے حکام اور لڑکی کے والدین ایک سمجھوتے پر پہنچ گئے ہیں، اگر اس معاملے پر اتفاق رائے ہے، تو اسے اس طرح ختم ہونے دیں، ہم فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی اجازت نہیں دیں گے۔

کچھ حلقے پریشانی کو ہوا دینا چاہتے تھے۔ اب لڑکی کے والد بغیر حجاب کے ہی اسکول بھیجنے کے لیے تیار ہیں، تو اسے وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔" چرچ کی حکومت کے خلاف کوشش

واضح رہے کہ اس سے پہلے کیرالہ میں کیتھولک چرچ نے وزیر کے بیانات پر تنقید کی تھی۔ سائرو-مالابار چرچ کے میڈیا کمیشن نے ایک سرکاری ریلیز میں کہا تھا، "اس معاملے کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے، وزیر نے فرقہ پرست عناصر کو قدم رکھنے کی اجازت دی ہے۔

وزیر کے بیان کا مقصد صرف ایسی فرقہ پرست طاقتوں کی مدد کرنا ہے، جو ریاست میں عیسائی تعلیمی اداروں میں پریشانی پیدا کر رہی ہیں۔"

کیتھولک چرچ کے ماؤتھ پیس سمجھے جانے والے دیپیکا ڈیلی نے بدھ کو ان کے خلاف ایک اداریہ لکھا، جس میں کہا گیا کہ "ذمہ داری تو یہ ہے کہ اسکول میں حجاب پہننے کے حق کے مطالبے کی آڑ میں مذہبی بنیاد پرستی کی دراندازی کو روکا جائے۔

یہ صورتحال کہ ہمیں بعض تنظیموں کے دباؤ کے سامنے خاموش رہنا پڑے، بنیاد پرستی کے خلاف سیاسی خاموشی کا نتیجہ ہے۔"

بھارت میں مسلم طالبات کے اسکولوں میں حجاب پہننے کے حوالے سے اس سے پہلے بھی تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں اور ریاست کرناٹک میں بی جے پی کے دور حکومت میں اسی طرح کے ایک تنازعے کے بعد مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ریاستی وزیر حجاب پہننے کیرالہ میں اسکول میں طالبہ کے اسکول کے کی اجازت حوالے سے کے خلاف میں کہا کے روز

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ