مضبوط فلسطینی ریاست کا قیام پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گی‘ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-01-16
قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ اور القدس الشریف کے بطور اس کے دار الحکومت، ایک مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام، پاکستان کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گی۔شہباز شریف اپنا 2 روزہ دورہ شرم الشیخ مکمل کرکے پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے، انہوں نے شرم الشیخ مصر میں منعقدہ غزہ امن سربراہ اجلاس میں شرکت کی، مصر کے وزیرِ ثقافت احمد فواد ھنو نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔اپنی روانگی سے قبل ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سب سے اہم ترجیح غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کی مہم کو فوری طور پر روکنا تھا،ہم نے دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اس مؤقف کو دوٹوک انداز میں پیش کیا۔ صدر ٹرمپ کا شکریہ کہ انہوں نے قتل عام رکوانے کے لیے قدم اٹھانے کا وعدہ کیا اور اسے پورا کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم امن کے لیے صدر ٹرمپ کے منفرد کردار کی تعریف کا اظہار کرتے رہیں گے، فلسطینی عوام کی آزادی، وقار اور خوشحالی پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کیلیے پْرعزم ہے، وزیر خزانہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-08-26
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کے لیے پْرعزم ہے۔ ان کے بقول جاری اسٹرکچرل اصلاحات نے کیپٹل مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت وزارت خزانہ میں کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی) کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو مضبوط اور وسعت دینے سے متعلق روڈ میپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سی ڈی سی، این سی سی پی ایل، پاکستان بزنس کونسل اور وزارتِ خزانہ کے نمائندوں نے شرکت کیں۔اجلاس میں کونسل کے ٹرمز آف ریفرنس اور مجموعی حکمتِ عملی پر غور کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی بہترین عملی نمونوں کو اپناتے ہوئے مارکیٹ کو وسیع، گہرا اور متنوع بنانے کے لیے منظم انداز میں پیش رفت ضروری ہے۔شرکاء نے چار اہم شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جن میں ریٹیل اور انسٹی ٹیوشنل سرمایہ کاروں کی شمولیت میں اضافہ، سرمایہ کاروں کی ضرورت کے مطابق متنوع سرمایہ کاری مصنوعات کی تیاری، بینکوں، بروکرز اور میوچل فنڈز جیسے مارکیٹ انٹرمیڈریز کے لیے سہولت کاری میں بہتری، اور سرمایہ کاروں و اجراء کنندگان کے لیے مراعاتی اقدامات شامل تھے۔