مجھے پیرول پر رہا کریں، افغانستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل کر سکتا ہوں: عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے افغانستان سے متعلق امن عمل میں کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیںپیرول پر رہا کیا جائے تو وہ افغانستان کے معاملے کوبات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیغام ان کی بہن نورین خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کو دیا، جہاں انہوں نے عمران خان کی جانب سے موجودہ صورتحال پر خیالات سے آگاہ کیا۔
نورین خان کے مطابق عمران خان نے مذہبی جماعت کے حالیہ واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ریاستی ادارے اس حوالے سے سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ9 مئی سمیت چار بڑے واقعات کی تحقیقات کے لیےجوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔
عمران خان نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے جو 45 سال سے جنگ اور بدامنی کا شکار ہے۔ انہوں نے مہاجرین کی واپسی کے حالیہ عمل پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جو لوگ تین نسلوں سے پاکستان میں رہ رہے تھے، انہیں اچانک اور زبردستی واپس بھیجا گیا، اس سے ان کے دلوں میں ہمارے خلاف تکلیف اور ناراضی پیدا ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس میں سیاستدانوں کو آگے آ کر ذمہ داری لینی چاہیے۔میں اس مسئلے کو بات چیت سے حل کر سکتا ہوں، بس مجھےپیرول پر رہا کیا جائے، تاکہ امن کے لیے اپنا کردار ادا کر سکوں۔
واضح رہے کہ افغانستان کی درخواست پر پاکستان نے عارضی طور پر48 گھنٹے کے لیے سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ افغان طالبان کی درخواست پر کیا گیا، جو آج شام 6 بجے سے نافذ العمل ہے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عمران خان فسطائیت کے عروج کے دور میں بھی ہم نے مذاکرات کی بات کی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ یہی ہاؤس تھا اور اسی ہاؤس کے اندر اسپیکر کی کرسی پر اسد قیصر براجماں تھے، اس وقت اپوزیشن کی آدھی فرنٹ لائن جیلوں میں تھی۔
عطاتارڑ نے کہا کہ اس وقت عمران خان کی چیرہ دستیاں جاری تھی، ان کی فسطائیت عروج پر تھی، اس کے باوجود ہم مذاکرات کی بات کرتے تھے، اس وقت کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ تھا وہ میثاق معیشت کرنے پر تیار ہیں، آؤ ہم سے بات کرو۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ لوگ ہمیں برا بھلا کہتے تھے، ہم تو اس ملک کی بات کر رہے تھے، اب بھی اسپیکر نے کئی بار مذاکرات کی کال دی، جس کے لیے کمیٹی بھی بنی، اپوزیشن نے اس عمل کو سبوتاژ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی سیلیکٹو میموری ہے جو کہتی ہے ’میرا سب اچھا ہے تمہارا سب برا ہے‘، یہ اس ملک میں نہیں چلے گا، ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کیا، جو میدان سے باہر تھا اس کو تنقید کا بھی کوئی حق نہیں ہے کہ ضمنی الیکشن پر بات کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں