data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم پورے  خطے کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

سینئر صحافیوں سے گفتگو کے دوران پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ رواں برس کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف شروع کیے گئے آپریشنز میں مجموعی طور پر 1873 عسکریت پسند مارے گئے، جن میں افغان شہریت رکھنے والے عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ریاستی اداروں پر الزام تراشی اور سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا حقیقت سے کوسوں دور ہے، جبکہ دہشتگردی کے بیشتر واقعات کے بنیادی محرکات کی جڑیں پاکستان سے باہر موجود ہیں۔

احمد شریف چوہدری کے مطابق اس سال ملک کے مختلف حصوں میں 66 ہزار سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی گئیں۔ خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 اور بلوچستان میں 34 ہزار سے زائد کارروائیاں اس کے علاوہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 4 نومبر 2025 سے جاری سلسلے میں مزید 4 ہزار سے زائد کارروائیاں ہوئیں جن کے دوران 206 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔

ترجمان نے اس غلط فہمی کی بھی سختی سے تردید کی کہ پاک افغان سرحد کی نگرانی میں اداروں کی کوئی کوتاہی موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پھیلی یہ سرحد ایسی ہے جہاں 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر بھی پوسٹیں قائم کرنا بعض اوقات مشکل ترین ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بارڈر مینجمنٹ دو طرفہ بنیادوں پر ہوتی ہے مگر افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کو سہولت دینے کے ناقابل تردید شواہد پاکستان نے مسلسل پیش کیے ہیں۔ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قائم غیر منظم گورننس ڈھانچہ دہشتگرد گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کے گٹھ جوڑ کو تقویت دیتا ہے، جس کے باعث نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سمیت متعدد غیر قانونی سرگرمیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ یہ گاڑیاں نہ صرف اسمگلنگ کے جال کا حصہ ہیں بلکہ متعدد خودکش حملوں میں بھی استعمال ہو چکی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوحا معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، مگر آج تک اس وعدے پر عملدرآمد نظر نہیں آیا۔ افغانستان میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کے مراکز موجود ہیں، جہاں سے انہیں اسلحہ، تربیت اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر فریقین چاہیں تو کسی تیسرے ملک کی نگرانی میں قابلِ تصدیق میکانزم بھی بنایا جا سکتا ہے جس پر پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی شکوہ نہیں، مسئلہ صرف طالبان حکومت کے طرزعمل سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے مگر طالبان انتظامیہ میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رجیم پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرتی۔

ترجمان نے بتایا کہ رواں برس اب تک 10 لاکھ کے قریب افغان شہریوں کی باعزت وطن واپسی ممکن بنائی جا چکی ہے، جبکہ صرف نومبر میں 2 لاکھ سے زیادہ افراد واپس گئے۔

بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نئی دہلی کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے غیر حقیقی بیانات دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کشمیر اور دیگر سرحدی علاقوں میں بھارت کی اشتعال انگیزی جاری رہی تو ایسے اقدامات میں نقصان صرف اور صرف بھارت کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف پھیلایا جانے والا زہریلا بیانیہ بیرون ملک سے منظم انداز میں چلایا جاتا ہے، جس کا مقصد ملک میں انتشار پیدا کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈی جی آئی ایس پی آر افغانستان کی واضح کیا کہ نے کہا کہ انہوں نے چکی ہے کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا