بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان؛ امن کے لیے خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے بارے میں غیر سنجیدہ، غیر حقیقت پسندانہ اور اشتعال انگیز دعویٰ کیا، خطرناک رویے کی تازہ مثال ہے۔ انڈین وزیر ِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا صوبہ سندھ سے متعلق دیا گیا بیان خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ انڈین وزیر دفاع کا یہ بیان اْس ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین، تسلیم شدہ سرحدوں کی حرمت اور ریاستی خودمختاری کی کْھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کے مہینوں بعد بھی سیاسی و عسکری رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات دینے کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور انڈین وزیر ِ دفاع کا حالیہ بیان اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین، تجزیہ کاروں نے اس بیان کو پاکستان کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انڈین وزیر ِ دفاع اتوار کو دہلی میں سندھی سماج سمیلن کے عنوان سے ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہا تھا جس کی متعدد ویڈیوز انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیے ہیں۔ انڈیا کے وزیر ِ دفاع نے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ سندھی ہندو، بالخصوص اْن کی نسل کے لوگ، آج تک سندھ کو انڈیا سے الگ کرنے کو قبول نہیں کر پائے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ناصرف سندھ میں بلکہ پورے انڈیا میں ہندو، سندھو ندی (دریائے سندھ) کو مقدس سمجھتے تھے۔ سندھ کے کئی مسلمان بھی مانتے تھے کہ دریائے سندھ کا پانی مکہ کے آبِ زمزم سے کسی طور کم متبرک نہیں۔ یہ اڈوانی نے کہا ہے۔ پاکستان نے بجا طور پر اس بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے ’’خیالی اور خطرناک تشددی رویہ‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ جب کسی ملک کے دفاع کا لب و لہجہ جنگی سیاست کو ہوا دے تو اس کا مطلب محض سفارتی تناؤ نہیں بلکہ سوچ کے اس زاویے کی جھلک ہوتی ہے جو حقیقت سے زیادہ خواہشات کے سہارے سیاست چلاتا ہے۔ پاکستان نے بالکل درست کہا کہ یہ بیان ایک ایسے ’’وسعت پسند ہندو توا ذہنیت‘‘ کی عکاسی کرتا ہے جو خطے کی تسلیم شدہ سرحدوں، تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون کو چیلنج کرنے کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا اس ذہنیت کو نہ صرف قبول کر رہی ہے بلکہ اسے قومی بیانیے کی شکل دینے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ اس بیانیے میں تاریخ کو نئی شکل دی جاتی ہے، جغرافیہ کو خواہشات کے مطابق توڑا جاتا ہے، اور سیاست کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی ماحول ہے جس میں ایسے بیانات پھلتے پھولتے ہیں، اور پھر خطے کا امن صرف چند لفظوں کی قیمت پر کمزور ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایسی اشتعال انگیز گفتگو بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ دنیا بھر میں سرحدیں بیانات سے تبدیل نہیں ہوتیں، جنگوں سے بھی کم، بلکہ وہ تاریخی حقائق، عالمی معاہدات اور بین الاقوامی تسلیم شدہ اصولوں کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ سندھ نہ صرف پاکستان کا باقاعدہ، مسلمہ اور آئینی صوبہ ہے بلکہ اس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ایک منفرد تہذیبی سفر رکھتی ہے۔ اس کا تعلق محض جغرافیے سے نہیں بلکہ شناخت، ثقافت اور ایک پوری قوم کے اجتماعی شعور سے ہے۔ اس حقیقت کو محض سیاسی فائدے کے لیے نظرانداز کرنا نہ صرف ناسمجھی بلکہ خطرناک جنون ہے۔
ناگزیر ہے کہ اس بیان کو بھارتی داخلی سیاست کے پس منظر میں سمجھا جائے۔ بھارت میں پچھلی ایک دہائی سے جس نظریے کو سیاسی ترجیح حاصل ہوئی ہے، اس کی بنیاد تاریخ کی نئی تعبیر، مذہب کی سیاسی تفہیم اور خطے میں بالادستی کے خواب پر رکھی گئی ہے۔ ایسے میں پاکستان، چین، نیپال اور سری لنکا کے بارے میں جارحانہ لہجہ اختیار کرنا اس سیاسی سوچ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جسے بھارتی ووٹ بینک کے ایک خاص طبقے کی تائید حاصل ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب ایک ریاست اپنی داخلی شکستوں، اقلیتوں پر ظلم اور معاشرتی عدم توازن کو چھپانا چاہتی ہے تو وہ بیرونی دشمن تراشنے لگتی ہے، اور بھارتی وزیر دفاع کا سندھ کے حوالے سے بیان اسی سفارتی حکمت ِ عملی کی پیداوار ہے۔ پاکستان نے بالکل بجا نشاندہی کی کہ بھارت کو سب سے پہلے اپنے ان شہریوں کی فکر کرنی چاہیے جو اس کی حدود کے اندر محفوظ نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی رپورٹیں مسلسل یہ گواہی دیتی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر تشدد ایک معمول بن چکا ہے، قانون کے رکھوالے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور نفرت انگیز گروہ کھلے عام دھمکیاں دے کر سیاست میں اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومت کا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ داخلی عدم تحفظ کو کم کرے، نہ کہ بیرونی سرحدوں کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی پیدا کرے۔
علاقائی تناظر میں یہ معاملہ محض پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا مسئلہ ہے۔ یہ خطہ پہلے ہی جوہری ہتھیاروں سے مسلح دو بڑے ممالک کی وجہ سے حساس ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی، ایک غلط بیان یا ایک سیاسی جنون کسی بڑے بحران کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہایت دانشمندی سے اس بیان کا جواب سفارتی اصولوں کے تحت دیا تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بھارتی قیادت ایسے بیانات سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ کیا یہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے؟ کیا یہ اکثریتی ووٹ کے جذبات کو بھڑکانے کی حکمت عملی ہے؟ یا پھر یہ خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کا ابتداء ہے؟ ان سوالات کا جواب وہی دے سکتا ہے جس کے پاس بھارت کی سیاسی حرکات کے پیچھے چھپے محرکات تک رسائی ہو، لیکن خطہ ضرور اس کے نتائج بھگت سکتا ہے۔
پاکستان کا ردعمل نہ صرف سفارتی زبان میں متوازن تھا بلکہ خطے کے امن کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی یاد دلایا کہ سرحدی نقشوں سے کھیلنے والے ممالک دراصل اپنی ہی زمین پر موجود خوف کو چھپاتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے کمزور ہو، جہاں اقلیتیں خوفزدہ ہوں، جہاں تاریخ مسخ کی جاتی ہو، جہاں تعلیم سیاسی بیانیے کا آلہ کار بن جائے، وہ ہمیشہ بیرونی دشمنوں کا تصور پیدا کرتا ہے تاکہ اندرونی بگاڑ سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس وقت بھارت اسی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہے، اور یہی کیفیت خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان نے یہ بھی درست کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان عناصر کا احتساب کرے جو نہ صرف اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں بلکہ اسے عملی طور پر انجام بھی دیتے ہیں۔ اگر بھارتی ریاست واقعی ایک جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے اپنی اقلیتوں کو وہی حقوق دینے ہوں گے جن کا ذکر وہ بیرونی دنیا میں کرتا ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت کے بیانات، پالیسیاں اور طرزِ حکمرانی اس کے جمہوری تشخص کو نہ صرف کمزور کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ اس اصول پر قائم رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام، سرحدوں کی حرمت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی توسیع پسند بیانیے کو فروغ نہیں دیا، نہ ہی کسی کے جغرافیے پر دعویٰ کیا۔ اس کی توجہ ہمیشہ خودمختاری، امن، تعاون اور علاقائی ترقی پر رہی ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے ایسے بیانات خطے میں بے چینی بڑھاتے ہیں، اور یہ بے چینی مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ امن صرف الفاظ سے نہیں بلکہ رویوں سے قائم ہوتا ہے۔ بھارت اگر واقعی خود کو ایک ذمے دار ریاست سمجھتا ہے تو اسے اپنے وزرا کے بیانات میں سنجیدگی لانی ہوگی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا، سرحدوں کے احترام کو تسلیم کرنا ہوگا، اور خطے کے پڑوسی ممالک کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی چھوڑنی ہوگی۔ یہی راستہ ہے جو جنوبی ایشیا کو جنگی نفسیات سے نکال سکتا ہے، عوام کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے، اور مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ اگر بھارت یہ راستہ اختیار کرے تو خطہ خود بخود استحکام کی طرف جائے گا؛ لیکن اگر اس نے توسیع پسندانہ ذہنیت کو اپنا سیاسی ہتھیار بنائے رکھا تو یہ آگ صرف سرحد پار نہیں بلکہ بھارت کے اپنے اندر بھی پھیلتی چلی جائے گی۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
سیف اللہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اشتعال انگیز کے بارے میں پاکستان نے انڈین وزیر نہیں بلکہ وزیر دفاع کہ بھارت ہیں بلکہ بھارت کی کرتا ہے جاتا ہے دفاع کا سکتا ہے رہی ہے
پڑھیں:
قومی اسمبلی میں بھارتی وزیردفاع کے متنازع بیان کیخلاف قرارداد منظور،سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ قرار
قومی اسمبلی میں بھارتی وزیردفاع کے متنازع بیان کیخلاف قرارداد منظور،سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 27 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)قومی اسمبلی میں بھارت کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کردی گئی اور کہا گیا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اسلم عالم نیازی نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ سے متعلق بیان پر مذمتی قرارداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان قابل مذمت ہے اور یہ بیان پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے۔قراردار میں کہا گیا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔
خیال رہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چند روز قبل دہلی میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ سندھ کی سرزمین آج بھارت کا حصہ نہیں ہے لیکن تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ بھارت کا حصہ رہے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو سرحدیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ کل سندھ دوبارہ بھارت کا حصہ بن جائے، دریائے سندھ کے مالک ہمارے سندھ کے لوگ ہمیشہ ہمارے رہیں گے، کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہ کہاں رہتے ہیں وہ ہمیشہ ہمارے ہی رہیں گے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ لاک کرشن ایڈوانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سندھی ہندں خاص طور پر ان کی نسل کے ہندں نے سندھ کی بھارت سے علیحدگی کو تسلیم نہیں کیا ہے اور صرف سندھ نہیں بلکہ پورے بھارت میں ہندو سمجھتے ہیں کہ دریائے سندھ مقدس ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے افواہیں بے بنیاد ہیں، اڈیالہ جیل حکام بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے افواہیں بے بنیاد ہیں، اڈیالہ جیل حکام آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے پاکستانیوں کیلئے روزانہ 500 ویزے پراسیس ہو رہے ہیں، سفیر متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات نے عام پاکستانیوں کیلئے ویزے روک دیے،وزارت داخلہ کا بڑا انکشاف سعودی ولی عہد کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے انکار پر ٹرمپ ناراض، اسرائیلی میڈیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم