1967ء سے پہلے کی سرحدوں والی : مضبوط فلسطینی ریاست ہماری پالیسی کی بنیاد : وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ اور القدس الشریف کے بطور اس کے دار الخلافہ، ایک مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام پاکستان کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی بنیاد رہا ہے اور رہے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنا 2 روزہ دورہ شرم الشیخ مکمل کرکے پاکستان پہنچ ہوگئے۔ وزیراعظم نے شرم الشیخ، مصر میں غزہ امن سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔ مصر کے وزیرِ ثقافت احمد فواد ھنو نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔ اپنی روانگی سے قبل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اب جب میں شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی کے لیے ہوائی جہاز پر سوار ہو رہا ہوں، میں ممکنہ طور پر اس بڑی تبدیلی کی نوعیت کے بارے میں اپنے کچھ تاثرات بتانا چاہتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہوا اور پاکستان کا کیوں اس سے بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے اہم ترجیح غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کی مہم کو فوری طور پر روکنا تھا، دیگر برادر اقوام کے ساتھ مل کر اس ترجیح کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا اور تقویت دی گئی۔ صدر ٹرمپ کے لیے ہمارا شکریہ اس بات کی بنا پر ہے کہ وہ اس ظلم کو روکیں گے، اور انہوں نے اس وعدے کو پورا کیا۔ ہم امن کے لیے صدر ٹرمپ کے منفرد کردار کی تعریف کا اظہار کرتے رہیں گے۔ فلسطینی عوام کی آزادی، وقار اور خوشحالی پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ انشاء اللہ، 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ اور القدس الشریف کے بطور اس کے دار الخلافہ، ایک مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام، پاکستان کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گی۔ صدر ٹرمپ کا شکریہ انہوں نے غزہ میں قتل عام رکوانے کیلئے قدم اٹھانے کا وعدہ کر کے اسے پورا کیا۔ ہم نے دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اس مؤقف کو دوٹوک انداز میں پیش کیا ہے۔ ادھر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر کے تمام مراحل میں شفافیت اور معینہ مدت میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جناح میڈیکل کمپلیکس جدید اور تمام سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہو گا جہاں عوام کو بین الاقوامی معیار کی علاج معالجہ کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے بیان کے مطابق اجلاس کو جناح میڈیکل کمپلیکس و ریسرچ سینٹر کی تعمیر میں پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کے ڈیزائن کنسلٹنٹ کا انتخاب کر لیا گیا ہے اور کنٹریکٹ کے حوالے سے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، منصوبے کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے لئے ماہرین کے انتخاب کے حوالے سے اشتہار جلد جاری کیا جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کے چیف ایگزیکٹو افسر کی تعیناتی کے لئے وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ منصوبے کی جیو ٹیک سٹڈی مکمل کی جاچکی ہے جبکہ ہائیڈرولوجی اور سیسمک سٹڈیز نومبر میں مکمل کرلی جائیں گی۔ وزیراعظم نے شرکاء کو اپنے دورہ مصر سے آگاہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جناح میڈیکل کمپلیکس کے حوالے سے شہباز شریف انہوں نے کے ساتھ نے کہا کے لیے
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎