پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور پاکستان کے درمیان ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) کے تحت دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے پہلے جائزے پر اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: سیلاب زدہ معیشت کا جائزہ، آئی ایم ایف مشن 25 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت اور 20 کروڑ ڈالر ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت فراہم کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کا معاشی پروگرام میعاری استحکام کو مضبوط کر رہا ہے اور مارکیٹ کے اعتماد کی بحالی میں مدد دے رہا ہے، جبکہ مالی سال 2025 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی معاشی شرحِ نمو ہدف سے کم رہے گی، آئی ایم ایف کی پیشگوئی
آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کی معاشی کارکردگی بہتر سمت میں جا رہی ہے اور اصلاحاتی اقدامات سے پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
ا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اسٹاف سطح کا معاہدہ پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹاف سطح کا معاہدہ پاکستان آئی ایم ایف
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔