مظاہرین کیخلاف فوجی طرز کا آپریشن انتہائی شرمناک ہے‘تنظیم اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (نمائندہ جسارت)جب حماس نے اسرائیل سے مذاکرات کو ترجیح دی ہے، تو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے پر چڑھائی کا کیا جواز تھا؟ حکومت اور ریاستی ادارے ظلم و جبر سے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کریں گے تو ملک میں انتشار مزید بڑھے گا۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیرشجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ دو برس سے زائد عرصے کے دوران ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ میں مسلسل وحشیانہ بمباری کرکے 70,000 سے زائد مسلمانوں کو شہید اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو شدید زخمی کر دیا ہے پھر یہ کہ غزہ جانے والی بین الاقوامی امداد کو روکے رکھا اور بھوک کو نسل کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مسجد اقصی کی حرمت کو بھی پامال کیا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اِس حوالے سے اگرچہ کسی مسلم یا غیر مسلم ملک نے اسرائیل کے خلاف عسکری طور پر عملی قدم نہیں اٹھایا لیکن بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اب جب کہ بعض عرب و دیگر ممالک کی کوششوں سے جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ طے پاگیا ہے اور اِس معاہدہ پر حماس سمیت فلسطین کی تمام تحاریک مزاحمت اور اسرائیل نے اتفاق کر لیا ہے تو پاکستان میں مظاہروں کا جواز اس وقت تک نہیں بنتا جب تک ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل اِس معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے یا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا واضح اعلان نہ کرے۔ پھر یہ کہ پاکستان میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو بدترین دہشت گردی نے گھیر رکھا ہے۔ ایسے میں پرتشدد مظاہروں سے ملک میں افراتفری مزید پھیلے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اور ریاستی مشینری کا مظاہرین سے مذاکرات کی راہ ترک کرکے فوجی طرز کا آپریشن کرنا، جس میں سینکڑوں افراد شہید کر دیئے گئے، انتہائی شرم ناک ہے۔ ریاست اگر تحمل اور بردباری کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور اسلامی احکامات کے مطابق درگزر اور بات چیت کا طریقہ نہیں اپنائے گی تو ملک بھر میں آگ بھڑک اٹھے گی، جس سے فائدہ صرف اندرونی و بیرونی ملک دشمن عناصر اٹھائیں گے اور پاکستان کی سا لمیت بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین، جو سب مسلم بھائی ہیں، ملک و ملت میں انتشار کے راستے سے گریز کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔