data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (نمائندہ جسارت)جب حماس نے اسرائیل سے مذاکرات کو ترجیح دی ہے، تو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے پر چڑھائی کا کیا جواز تھا؟ حکومت اور ریاستی ادارے ظلم و جبر سے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کریں گے تو ملک میں انتشار مزید بڑھے گا۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیرشجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ دو برس سے زائد عرصے کے دوران ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ میں مسلسل وحشیانہ بمباری کرکے 70,000 سے زائد مسلمانوں کو شہید اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو شدید زخمی کر دیا ہے پھر یہ کہ غزہ جانے والی بین الاقوامی امداد کو روکے رکھا اور بھوک کو نسل کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مسجد اقصی کی حرمت کو بھی پامال کیا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اِس حوالے سے اگرچہ کسی مسلم یا غیر مسلم ملک نے اسرائیل کے خلاف عسکری طور پر عملی قدم نہیں اٹھایا لیکن بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اب جب کہ بعض عرب و دیگر ممالک کی کوششوں سے جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ طے پاگیا ہے اور اِس معاہدہ پر حماس سمیت فلسطین کی تمام تحاریک مزاحمت اور اسرائیل نے اتفاق کر لیا ہے تو پاکستان میں مظاہروں کا جواز اس وقت تک نہیں بنتا جب تک ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل اِس معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے یا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا واضح اعلان نہ کرے۔ پھر یہ کہ پاکستان میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو بدترین دہشت گردی نے گھیر رکھا ہے۔ ایسے میں پرتشدد مظاہروں سے ملک میں افراتفری مزید پھیلے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اور ریاستی مشینری کا مظاہرین سے مذاکرات کی راہ ترک کرکے فوجی طرز کا آپریشن کرنا، جس میں سینکڑوں افراد شہید کر دیئے گئے، انتہائی شرم ناک ہے۔ ریاست اگر تحمل اور بردباری کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور اسلامی احکامات کے مطابق درگزر اور بات چیت کا طریقہ نہیں اپنائے گی تو ملک بھر میں آگ بھڑک اٹھے گی، جس سے فائدہ صرف اندرونی و بیرونی ملک دشمن عناصر اٹھائیں گے اور پاکستان کی سا لمیت بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین، جو سب مسلم بھائی ہیں، ملک و ملت میں انتشار کے راستے سے گریز کریں۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم کے حوالے سے فیک نیوز اور افواہیں انتہائی خطرناک ہیں: دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے حوالے سے فیک نیوز اور افواہیں انتہائی خطرناک ہیں. بھارتی سائبر ڈومین پاکستان کے حوالے سے مختلف شعبوں میں فیک نیوز اور افواہیں پھیلانے میں مصروف ہے۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ اب افغان سوشل میڈیا اکاونٹس بھی بھارت کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں. بدقسمتی ہے اس حوالے سے متعدد بھارتی مین اسٹریم نیوز آرگنائزیشن اور بھارتی صحافی بھی شامل ہیں۔سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی زندگی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے گذشتہ روز بیان دیا تھا، اُن کا بیان تمام افواہوں کا خاتمہ کرتا ہے. سربراہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صحت کے حوالے سے متعلقہ وزارت بہتر بتا سکتی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا پاک-افغان طالبان جنگ بندی کے سوال پر جواب دیتے ہوئےکہا کہ جنگ بندی روایتی جنگ بندی کے معنی میں نہیں. اس جنگ بندی کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان پر کوئی حملہ نہیں ہونا چاہیے۔تاہم دوسری جانب پاکستان میں بڑے دہشت گرد حملے کیے گئے، اگر صورتحال کو دیکھا جائے تو جنگ بندی کا پاس نہیں رکھا جا رہا. افغان شہری اور ان کے گروہ حملے کر رہے ہیں، اس وجہ سے ہم جنگ بندی کے حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں ہو سکتے، پوری طرح چوکس ہیں اور ہماری عسکری تیاری مضبوط ہے. ترکیہ وفد کا دورہ پاکستان ابھی بھی پائپ لائن میں ہے۔طاہر انداربی کا مزید کہنا تھا کہ دستاویز کے باوجود بیرون ممالک جانے والے مسافروں کو ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کی حوالے سے متعلقہ ممالک نے کوئی درخواست نہیں کی. اس معاملے پر وزارت داخلہ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی خواتین کارکنوں پر مرد پولیس کا تشدد انتہائی شرمناک ہے‘ زین شاہ
  • سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال سے رابطوں کے معاملے پر اسلامی تحریک میں اختلافات
  • کراچی، ہندو برادری کا بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
  • سوشل میڈیا پرعمران خان بارے فیک نیوز، افواہیں انتہائی خطرناک ہیں، دفترخارجہ
  • سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم کے حوالے سے فیک نیوز اور افواہیں انتہائی خطرناک ہیں: دفتر خارجہ
  • بیت جن پر صیہونی جارحیت کیخلاف حماس اور جہاد اسلامی کا ردعمل
  • ڈی آئی خان، سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، 22 خوارج ہلاک
  • اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں نیا آپریشن شروع کر دیا
  • اُردن : خطرناک ملزمان کیخلاف آپریشن میں روبوٹ کا استعمال
  • برطانوی پولیس کا منی لانڈرنگ کیخلاف آپریشن‘غیرقانونی اثاثے ضبط