میرا قائد عمران خان فوجی آپریشن کیخلاف تھا، ہم بھی اس کے خلاف ہیں، نو منتخب وزیر اعلیٰ کے پی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 October, 2025 سب نیوز

پشاور(آئی پی ایس) نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ میرا قائد عمران خان ملٹری آپریشن کے خلاف تھا تو ہم بھی اس کے بالکل خلاف ہیں، ملٹری آپریشن دہشت گردی کا حل نہیں، دنیا بھر میں مذاکرات کی طرف آیا جارہا ہے۔

اپنے انتخاب کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے لیڈر پاکستان کے سب سے مقبول ترین لیڈر کا انتہائی مشکور ہوں، اس نے مجھ جیسے ادنی کارکن جو مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے، جس کا نہ کوئی بھائی نہ بچہ سیاست میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے نام کے ساتھ زرداری یا بھٹو نہیں ہے، اپنی محنت کرکے اس عہدے تک پہنچا ہوں، میں اپنے قائد کا اس لئے بھی شکر گزار ہوں میرا تعلق قبائل سے ہے، میں پہلے پاکستانی ہوں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اس مائینڈ سیٹ کے ساتھ یہ ہیں، میرے نام کے ساتھ آفریدی ہے، میرے نام کا اعلان ہوا تو اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ تزلیل کی گئی، ان کا رویہ ہے کہ قبائل ہمیشہ پیچھے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 78 سال سے اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ ہم پر حکومت کر رہے ہیں، میرا قائد جانتا تھا کہ قبائل کئی سالوں سے پیچھے ہیں، میرے چیئرمین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی جس کے نام کے ساتھ بھٹو یا زرداری کا نام لگا ہے، صرف اس کو موقع نہیں دیتا، بلکہ وہ اس کو موقع دیتا ہے جو محنت کرکے یہاں تک آیا، میں پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیبلشمنٹ جو ہمارا سوشل میڈیا ہے اس کا بھی شکر گزار ہوں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ میڈیا کے نمائندوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے حق کے لیے اپنی نوکریاں گنوادیں، میں شہید ارشد شریف کا بھی شکر گزار ہوں جس نے راہ حق کے لئے اپنی جان گنوا دی۔

انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے جس طرح ایک آواز پر استعفیٰ دیا اور جس طرح آج ایوان میں کہا کہ اپنے لیڈر کے کہنے پر استعفیٰ دیا تو آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو ہماری پگڑیاں اچھال رہے ہیں ان کی اپنی لنگوٹیا پھٹی ہوئی ہیں، میں اپنے لیڈر کو پیغام دینا چاہتا ہوں میں آپ کا عاشق ہوں، اور لوگ سیاست کرتے ہیں لیکن میں آپ سے عشق کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے جس طرح قبائل کو شعور دیا اور بہادری ڈالی تو یقین دلاتا ہوں کہ یہ خیبرپختونخوا صرف چیئرمین کا ہے، پارٹی کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تمام پی ٹی آئی کارکنوں کو جو باہر ہیں یا ملک میں ہیں، ان کو یقین دلاتا ہوں قائد کی رہائی کے لئے آج سے اقدام اٹھانے شروع کردیے ہیں، چیئرمین کی اہلیہ جو باپردہ خاتون ہے، سیاست سے ان کا تعلق نہیں، ان کے لیے بھی سب سے پہلے کام کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج تک چیئرمین کی رہائی کے لیے جو اقدامات نہیں ہوئے وہ کرکے دکھاؤں گا، قائد کی رہائی کے لیے احتجاجی سیاست کا چمپیئن ہوں، کیونکہ میرے پاس کچھ کھونے کا نہیں ہے، نہ گاڑیاں نہ کچھ اور، یہ کرسی کو اپنے لیڈر کے لئے ایک لات دونگا، کوئی یہ نہ سمجھے کہ مجھے کوئی سیلوٹ کرے گا اور میں اس تخت و تاج کے لئے اپنے مقصد سے ہٹ جاؤں گا تویہ ان کی بھول ہے، میں اپنے لیڈر کے احکامات پر فوری لبیک کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ روز سے افواہیں ہیں کہ چیرمین کی جیل کو تبدیل کیا جارہا ہے، اگر چیئرمین کو ان کی فیملی کی مرضی کے بغیر ایسا کیا تو سارے پاکستان کو جام کردوں گا، میرے لیڈر نے امن و جمہوریت کا دیکھا تھا لیکن بدقسمتی سے ایبلسیلوٹلی ناٹ اور اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے پر میرے قائد کی حکومت گرائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس خطے کے تمام بچے و خواتین صرف چیئرمین سے محبت کرتے ہیں لیکن لندن پلان کے ذریعے دہشتگردی لائی گئی، ہم نے بتایا بھی کہ ایک بار پھر پختونوں کے سر کی قیمت لگائی جارہی ہے لیکن مراد سعید پر الزام لگایا گیا، جب ہم چیخ رہے تھے کہ یہاں دہشت گرد لائے جارہے تھے لیکن اس وقت آپ نے سنا نہیں اسوقت آپ جھوٹے تھے یا آج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرا قائد ملٹری آپریشن کے خلاف تھا تو ہم بھی اس کے بالکل خلاف ہیں، ملٹری آپریشن دہشت گردی کا حل نہیں، دنیا بھر میں مذاکرات کی طرف آیا جارہا ہے، یہ انٹیلیجنس بیسڈ کئی آپریشن کرچکے ہیں تو پھر تو کوئی حل ہی نہیں، انہوں نے ہمیشہ فیصلے اپنی ذات اور اپنے بچوں کے لیے کیے ہیں، یہ مسائل کا حل نہیں ہے، جہاں بھی آپ نے آپریشن کرنے ہیں وہاں کے عمائدین اور عوام کو اپنے اعتماد میں لینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنی افغانستان کی پالیسی کی نظر ثانی کرنی ہوگی، جو افغان بہن بھائی چالیس سال سے یہاں رہ رہے تھے اب ان کو دھکے مار کر نکا رہے ہیں، اس طرح پالیسیاں نہیں بنتیں، علی امین گنڈاپور نے اپنے دور حکومت میں ان کو سنبھالا اور کھانے ودیگر انتظام کیا، یہ پالیسی ہوتی ہے، جو بھی افغان پالیسی بنائی جائے یہاں کے نمائندوں، حکومت کو اعتماد میں لیں،
ان مارٹر گولوں میں ہمارے بچے شہید ہورہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری قوم اس پر بہت خفا ہے، یہاں ایسی پالیسی لائیں گے کہ کوئی قانون سے مبرا نہیں ہوتا، ان کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا، پشتون تحفظ موومنٹ کو بین کیا گیا ہے، لوگوں کو شیڈول فور میں ڈالا گیا ہے، میں مرکزی حکومت سے بات کروں گا جو اپنا حق مانگتے ہیں ان کو شیڈول فور میں کیسے ڈالا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی تحریک انصاف کے خلاف بدنام کرنے کا آپریشن تھا، ہمارے کارکنوں کو دبانے کے لیے کیا گیا، پورے پاکستان میں تو کچھ نہیں کرسکتا لیکن میں ریڈیو پاکستان کی انکوائری مقرر کرتا ہوں، عوام ہی ریاست ہیں، اور اس وقت ریاست چیئرمین کے ساتھ کھڑی ہے، عوام نے آٹھ فروری کو صرف چیئرمین کے حق میں فیصلہ کیا ہے، بدقسمتی سے لوگوں کو بتانا ہے کہ کس قسم کی دھاندلی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کامن ویلتھ کی رپورٹ سب کو بجھوادوں گا، آٹھ فروری کی دھاندلی کی بھی انکوائری کرواؤں گا، ہمارے کارکنوں کو احتجاج پر مارا گیا، آج بھی انہوں نے تحریک لبیک کے کارکنوں پر گولیاں برسائیں، یہ اب خونی درندے بن گئے ہیں، یہ بند کمروں کے فیصلے اور غلط مشاورت آپ کو بند راستوں کی طرف لے جا رہی ہے، میں تحریک لبیک کے کارکنوں پر تشدد کی مذمت کرتا ہوں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ امن معاہدہ: فلسطینی قیدیوں کے بدلے تمام 20 اسرائیلی یرغمالی رہا جسٹس (ر) جنید غفار کمپٹیشن اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین مقرر گورنر نے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی قرار دیدیا، اپوزیشن کا چیلنج کرنے کا اعلان سہیل آفریدی 90 ووٹ لیکر نئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب غزہ امن معاہدے پر 20 ملکی سربراہی اجلاس، وزیراعظم شہباز شریف مصر روانہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کے ساتھ کاروبار کا آغاز وزیراعلیٰ کے انتخاب سے پہلے بڑی ہلچل، علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ پر اعتراض TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ہم بھی اس کے خلاف ہیں کے خلاف

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان