کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کیخلاف آپریشن‘ 21 افغان باشندے زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251014-08-27
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق کارروائی پاکستان رینجرز، سی ٹی ڈی اور سہراب گوٹھ پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کی۔ترجمان پولیس کے مطابق آپریشن سہراب گوٹھ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں کیا گیا، جہاں داخلی و خارجی راستوں کو سیل کر کے گھر گھر تلاشی لی گئی۔ کارروائی کے دوران 21 افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا جو بغیر قانونی دستاویزات کے پاکستان میں مقیم تھے۔پولیس حکام نے بتایا کہ زیرِ حراست افراد کو ابتدائی تفتیش کے بعد غیر قانونی مقیم افغانوں کے لیے قائم کردہ مرکز منتقل کیا جائے گا، جہاں سے انہیں افغانستان واپس بھیجنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ڈی ایس پی سہراب گوٹھ کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف آپریشن کا سلسلہ جاری رہے گا، تاہم اس دوران کسی بھی شخص کو بلاجوازہراساں نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیرِ داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واضح کیا کہ ریاست کی پالیسی غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے بارے میں بالکل واضح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجا جا رہا ہے، اور اس سلسلے میں پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔وزیرِ داخلہ سندھ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، ریاستی پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی میں حکومت سے تعاون کریں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں