معاشی استحکام کی جانب اہم قدم، پاکستان اور آئی ایم ایف میں اسٹاف لیول معاہدہ ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
واشنگٹن:
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد منظوری کی صورت میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔
آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور مارکیٹ کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے 14 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا ہے، افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، جو معیشت کے لیے مثبت اشارے ہیں۔
تاہم ادارے نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ 70 لاکھ افراد اور ایک ہزار اموات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
قبل ازیں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تعمیری مذاکرات جاری ہیں، اور اسٹاف لیول معاہدہ اسی ہفتے متوقع ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت 1.
وزیر خزانہ نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان رواں سال کے اختتام سے پہلے پہلا گرین پانڈا بانڈ جاری کرے گا۔
انہوں نے قومی ایئر لائن اور تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا، اور بتایا کہ یورپ و برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی کے بعد پانچ سرمایہ کار گروپس نے قومی ایئر لائن میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں نااہل مودی کا معاشی فریب بے نقاب
مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑی بھارتی معیشت کے جھوٹے بیانیے عالمی اداروں نے جھوٹے ثابت کردیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کے ہوشربا انکشافات نے کرپٹ مودی کے نام نہاد معاشی ترقی کے کھوکھلے دعوے زمین بوس کردیے ہیں۔
آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت کو دوسرےکم ترین درجہ پر رکھتے ہوئے ’سی گریڈ‘ دے دیا۔ آئی ایم ایف نے 12 – 2011 کے بھارت کے معاشی ڈیٹا کو انتہائی پرانا اور ناقص قرار دے دیا۔
آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ’سی‘ گریڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کے پاس دستیاب ڈیٹا میں خامیاں موجود ہیں۔ آئی ایم ایف نے بتایا کہ بھارتی معیشت کے ڈیٹا میں خامیاں معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے سہ ماہی بنیادوں پر بھارتی معاشی ڈیٹا میں ایڈجسٹمنٹ نہ ہونے کو بھی اہم تکنیکی خامی قراردے دیا جبکہ بھارتی حکومت کا آمدنی کی بنیاد پر جی ڈی پی کا طریقہ کار بارہا ماہرین کی تنقید کا شکار رہا ہے۔
ڈیٹا کمزوریاں برقرار ہونے کے باعث بھارت کے قومی کھاتوں کو مسلسل دوسرے سال ’سی‘ گریڈ دیا گیا۔ آئی ایم ایف کے انکشافات نے مصنوعی اعداد و شمار پر کھڑی نا اہل مودی کی بھارتی معیشت کا پردہ چاک کر دیا۔