ممبئی ہائی کورٹ نے بولی ووڈ اداکارہ شیلپا شیٹی سے 60 کروڑ روپے کی مبینہ مالی دھوکہ دہی کے کیس میں حیران کن سوال کیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا ہے کہ اگر وہ بیرون ملک سفر کی اجازت چاہتی ہیں تو وہ اپنے شوہر اور بزنس مین راج کندرا کے خلاف وعدہ معاف گواہ کیوں نہیں بن جاتیں؟

یہ ریمارکس چیف جسٹس شری چندرشیکھر اور جسٹس گوتم اے.

انکھد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اُس وقت دیے جب شیلپا شیٹی نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ ان کے خلاف جاری لُک آؤٹ سرکلر(ایل او سی) کو عارضی طور پر معطل کیا جائے تاکہ وہ لاس اینجلس (امریکہ) میں ایک پیشہ ورانہ تقریب میں شرکت کر سکیں۔

شیلپا کے وکیل نرنجن مندرگی اور کرل مہتا نے عدالت کو بتایا کہ اداکارہ کو یوٹیوب کے مشہور اسٹار ”مسٹر بیسٹ“ نے ایک ایونٹ میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے اور وہ 22 سے 27 اکتوبر تک اپنے بیٹے کے ہمراہ سفر کرنا چاہتی ہیں۔ وکلا کا کہنا تھا کہ شیلپا کی بیٹی اور والدہ بھارت میں ہی قیام کریں گی اور اداکارہ کا کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔

عدالت نے شیلپا کے سفر پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر یہ دورہ پیشہ ورانہ نوعیت کا ہے تو اس کے لیے کوئی باضابطہ معاہدہ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ وکیل مندرگی نے وضاحت کی کہ عدالت کی اجازت کے بغیر معاہدہ ممکن نہیں تھا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آیا راج کندرا عدالت میں حلف نامہ جمع کروانے کو تیار ہیں کہ شیلپا شیٹی کا اُن کی کمپنی سے کوئی تعلق نہیں رہا؟

اسی دوران چیف جسٹس نے شیلپا سے براہِ راست سوال کیا، ’آپ راج کندرا کے خلاف وعدہ معاف گواہ کیوں نہیں بن جاتیں؟‘

اس پر شیلپا کے وکیل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’کل اخبارات یہی سرخی بنائیں گے جیسے پہلے کیا تھا۔‘

جس پر عدالت نے مختصر تبصرہ کیا، ’تو پھر ایسا ہی سہی۔‘

عدالت نے معاملے پر فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے شیلپا شیٹی کو جمعرات 16 اکتوبر تک اپنا جواب داخل کرنے کی مہلت دی ہے۔

یہ مقدمہ معروف سرمایہ کار دیپک کوٹھاری کی شکایت پر درج کیا گیا ہے، جنہوں نے الزام لگایا کہ راج کندرا، شیلپا شیٹی اور ایک تیسرے شخص نے انہیں 2015 سے 2023 کے درمیان کاروباری توسیع کے نام پر 60 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔

کوٹھاری کا کہنا ہے کہ شیلپا شیٹی اُس وقت کندرا کی کمپنی بیسٹ ڈیل ٹی وی میں 87 فیصد شیئر ہولڈر تھیں اور ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر رہی تھیں۔

دوسری جانب شیلپا شیٹی کا مؤقف ہے کہ انہوں نے 2016ستمبر میں کمپنی سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ان کا ان لین دین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے تفتیش کے دوران مکمل تعاون کیا اور ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عدالت نے کے خلاف کیا ہے

پڑھیں:

پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے  پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر تاریخی فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ ریاست کی طاقت رکھنے والے ادارے کسی بھی صورت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اور نہ ہی زیر حراست افراد پر ظلم، بدسلوکی یا تشدد کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ ایک ایسے کیس میں سنایا جس میں چند پولیس اہلکاروں پر الزام تھا کہ انہوں نے ڈیرہ غازی خان کے رہائشی زریاب خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اس تمام عمل کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔

عدالت عظمیٰ نے اس پس منظر میں نہ صرف پولیس اہلکاروں کی اپیلیں مسترد کر دیں بلکہ تفصیلی فیصلے کے ذریعے اصولی طور پر یہ بات بھی طے کر دی کہ کسی شہری کو، چاہے وہ کسی جرم کا ملزم ہی کیوں نہ ہو، ریاستی تحویل میں غیر قانونی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

7 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا کہ انسانی زندگی کا حق بنیادی ترین حق ہے اور آئینِ پاکستان ہر شہری کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کا تقاضا کرتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جب قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی فرد اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کسی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھتا ہے، اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے یا ایسے اقدامات کرتا ہے جن سے اس کی جان یا عزت کو نقصان پہنچے، تو یہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انصاف کے پورے نظام پر سوال کھڑا کر دیتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض اوقات پولیس تشدد ماورائے عدالت قتل کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو کہ انتہائی سنگین جرم ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پولیس کو گرفتاری کا مکمل اختیار ضرور حاصل ہے لیکن یہ اختیار آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور گرفتار شخص کو اس کی گرفتاری کی وجہ سے بھی لازماً آگاہ کیا جائے۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 اور آرٹیکل 14 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریاستی اداروں کو ہر حال میں شہریوں کی عزت، آزادی اور قانونی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر انسانی سلوک، ذلت آمیز رویہ، بربریت یا زبردستی اعترافِ جرم کرانے کا عمل کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔

فیصلے میں اس بات کو بھی اہم قرار دیا گیا کہ پولیس کے اندر موجود غلط رویوں کو روکنے کے لیے موثر، بیرونی اور مخصوص نگرانی کا نظام ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال رہے اور ریاست کی رٹ برقرار رہے۔

عدالت نے کہا کہ زریاب خان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ثبوت ہے کہ بعض اہلکار اپنے عہدے کو ذاتی اختیار سمجھ لیتے ہیں اور ایسے افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی نہ صرف ضروری ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے لازمی بھی ہے۔ عدالت نے پولیس اہلکاروں کی نوکری سے برطرفی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس محکمہ اپنے اندر سے ایسے عناصر کا خاتمہ نہ کرے تو شہریوں کا اعتماد مکمل طور پر مجروح ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
  • 90 دن کی مدت پوری کیے بغیر طلاق نافذ نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ
  • شام کو اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا پورا حق ہے، یمن
  • بھارتی اداکارہ کے شوہر پر سنگین الزامات، مقدمہ درج کروادیا
  • سابقہ شوہر مجھ سے کم کماتے تھے، محبت کی خاطر شادی کی، مریحہ صفدر
  • سال نو پر بل گیٹس کا زندگی بدل دینے والی 5 کتب کو پڑھنے کا مشورہ
  • گھریلو خرچ اور نفقہ کے مسائل
  • سال نو پر بل گیٹس نے زندگی بدل دینے والی کن 5 کتب کو پڑھنے کا مشورہ دیدیا
  • اداکارہ ماہرہ خان کی شوہر کے ساتھ انٹری، ویڈیو وائرل
  • قومی اسمبلی میں بھارتی وزیردفاع کے متنازع بیان کے خلاف قرارداد منظور