’اپنے شوہر کے خلاف گواہی دو‘: بھارتی عدالت کا شلپا شیٹی کو مشورہ، وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
ممبئی ہائی کورٹ نے بولی ووڈ اداکارہ شیلپا شیٹی سے 60 کروڑ روپے کی مبینہ مالی دھوکہ دہی کے کیس میں حیران کن سوال کیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا ہے کہ اگر وہ بیرون ملک سفر کی اجازت چاہتی ہیں تو وہ اپنے شوہر اور بزنس مین راج کندرا کے خلاف وعدہ معاف گواہ کیوں نہیں بن جاتیں؟
یہ ریمارکس چیف جسٹس شری چندرشیکھر اور جسٹس گوتم اے.
شیلپا کے وکیل نرنجن مندرگی اور کرل مہتا نے عدالت کو بتایا کہ اداکارہ کو یوٹیوب کے مشہور اسٹار ”مسٹر بیسٹ“ نے ایک ایونٹ میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے اور وہ 22 سے 27 اکتوبر تک اپنے بیٹے کے ہمراہ سفر کرنا چاہتی ہیں۔ وکلا کا کہنا تھا کہ شیلپا کی بیٹی اور والدہ بھارت میں ہی قیام کریں گی اور اداکارہ کا کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔
عدالت نے شیلپا کے سفر پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر یہ دورہ پیشہ ورانہ نوعیت کا ہے تو اس کے لیے کوئی باضابطہ معاہدہ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ وکیل مندرگی نے وضاحت کی کہ عدالت کی اجازت کے بغیر معاہدہ ممکن نہیں تھا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آیا راج کندرا عدالت میں حلف نامہ جمع کروانے کو تیار ہیں کہ شیلپا شیٹی کا اُن کی کمپنی سے کوئی تعلق نہیں رہا؟
اسی دوران چیف جسٹس نے شیلپا سے براہِ راست سوال کیا، ’آپ راج کندرا کے خلاف وعدہ معاف گواہ کیوں نہیں بن جاتیں؟‘
اس پر شیلپا کے وکیل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’کل اخبارات یہی سرخی بنائیں گے جیسے پہلے کیا تھا۔‘
جس پر عدالت نے مختصر تبصرہ کیا، ’تو پھر ایسا ہی سہی۔‘
عدالت نے معاملے پر فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے شیلپا شیٹی کو جمعرات 16 اکتوبر تک اپنا جواب داخل کرنے کی مہلت دی ہے۔
یہ مقدمہ معروف سرمایہ کار دیپک کوٹھاری کی شکایت پر درج کیا گیا ہے، جنہوں نے الزام لگایا کہ راج کندرا، شیلپا شیٹی اور ایک تیسرے شخص نے انہیں 2015 سے 2023 کے درمیان کاروباری توسیع کے نام پر 60 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔
کوٹھاری کا کہنا ہے کہ شیلپا شیٹی اُس وقت کندرا کی کمپنی بیسٹ ڈیل ٹی وی میں 87 فیصد شیئر ہولڈر تھیں اور ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر رہی تھیں۔
دوسری جانب شیلپا شیٹی کا مؤقف ہے کہ انہوں نے 2016ستمبر میں کمپنی سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ان کا ان لین دین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے تفتیش کے دوران مکمل تعاون کیا اور ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عدالت نے کے خلاف کیا ہے
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔