پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل غیر معینہ مدت تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ جن اشتہارات کی خلاف ورزی کا ذکر کر رہے ہیں وہ فائل پر موجود نہیں ہیں، کیسے ثابت ہوگا کہ وہ اشتہارات قانون کے مطابق ہیں یا نہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مزید دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نزاکت حسین ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس وقاص رؤف نے استفسار کیا کہ کیا آپ پی آئی اے خریدنا چاہتے ہیں۔؟ درخواست گزار وکیل نے جواب دیا کہ نہیں ہم قانون کے مطابق فیصلہ کروانا چاہتے ہیں، عدالت نے کہا کہ جن اشتہارات کی خلاف ورزی کا ذکر کر رہے ہیں وہ فائل پر موجود نہیں ہے، کیسے ثابت ہوگا کہ وہ اشتہارات قانون کے مطابق ہیں یا نہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مزید دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دے دیا، عدالت کی جانب سے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: درخواست گزار پی آئی اے عدالت نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔