عدالت عظمیٰ: 26ویں ترمیم کیس، فل کورٹ کے اختیارات پر ججز میں اختلاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-08-7
اسلام آباد (آن لائن+ صباح نیوز) عدالت عظمیٰ کے 8 رکنی آئینی بینچ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت آج (بدھ) دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی، جبکہ سماعت کے دوران فل کورٹ بینچ کی تشکیل اور سپریم کورٹ رولز 2025 کی منظوری پر ججز کے درمیان اختلافی ریمارکس سامنے آئے۔ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عائشہ ملک کے
درمیان سپریم کورٹ رولز کی منظوری کے طریقہ کار پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ فل کورٹ میٹنگ میں تمام 24 ججز شریک تھے اور سرکولیشن کے ذریعے رولز منظور کیے گئے، جبکہ جسٹس عائشہ ملک کا مؤقف تھا کہ رولز سب کے سامنے نہیں بنے اور ان کا تحریری نوٹ بھی موجود ہے۔ دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کی کمیٹی کے پاس بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ بنانے کا نہیں، اور کمیٹی کے اختیارات چیف جسٹس کے اختیارات نہیں کہلائے جا سکتے۔ جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس فل کورٹ بنا سکتے ہیں، جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس فل کورٹ بنانے کا اختیار اب بھی موجود ہے۔ سماعت کے دوران انٹرنیٹ سروس میں تعطل کے باعث کارروائی کا بڑا حصہ براہ راست نشر نہ کیا جا سکا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج بدھ تک ملتوی کر دی، وکیل عابد زبیری دلائل جاری رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فل کورٹ
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔