بھارت معرکہ حق میں شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
(احمد منصور )آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بھارتی فوجی قیادت انتخابی دباؤ میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہی ہے، معرکہ حق کے 5ماہ بعد پرانی گمراہ کن کہانیاں دوبارہ دہرائی جا رہی ہیں۔
بھارت کی انتخابی پروپیگنڈا مہم پر ردعمل دیتے ہو ئے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ایٹمی قوت کی فوجی قیادت کے سیاسی دباؤ میں بیانات خطرناک عمل ہے۔
بھارتی فوجی مشین جھوٹ کے بوجھ تلے دنیا بھر میں مذاق بن چکی ہے، غیر ضروری شوبازی خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ڈیلی ویجرز کی تنخواہوں میں اضافہ
انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس تضادات سے بھری ہوئی ہے۔
بھارتی قیادت تاریخ کو جھوٹ سے مسخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بھارت معرکہ حق میں شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
عالمی برادری بھارت کو دہشت گردی اور عدم استحکام کا چہرہ مان چکی ہے۔
پاکستانی عوام اور افواج مادر وطن کے ہر انچ کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
ہر جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا
ماہرہ خان کا طویل عرصے بعد ٹی وی پر واپسی کا عندیہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔