ملکی معیشت کی ترقی میں دیہی خواتین کا کردار ناقابل فراموش ہے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دیہی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن کو منانے کا مقصد دیہی خواتین کی محنت، جدوجہد اور خدمات کو سراہنا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب کی دیہی خواتین محنت، محبت، احساسِ ذمہ داری اور قربانی کی بہترین مثال ہیں، جن کی بدولت صوبے کی زمین زرخیز ہوتی ہے، گھر آباد رہتے ہیں اور ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ دیہی عورت صرف محنت کش نہیں بلکہ پنجاب کی ترقی میں ایک فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دیہی خواتین سمیت ہر عورت کا تحفظ ان کی "ریڈ لائن" ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ دیہی خواتین صرف کسان نہ رہیں بلکہ فیصلہ سازی اور معیشت میں مؤثر کردار ادا کریں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومت پنجاب دیہی خواتین کے لیے نئے مواقع اور سہولیات فراہم کر رہی ہے، جن میں کسان کارڈ، لائیوسٹاک کارڈ اور ہمت کارڈ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مراکز صحت کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ بلاسود قرضے، لیپ ٹاپ اور تعلیمی اسکالرشپس سے دیہی بیٹیوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آرہی ہے۔
مریم نوا نے مزید کہا کہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز اور مویشیوں کی فراہمی کے ذریعے خواتین کو روزگار کے مواقع دیے جا رہے ہیں، جبکہ ورچوئل پولیس اسٹیشن خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دیہی خواتین مریم نواز
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ