data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے تحریک لبیک پاکستان کے یکجہتی فلسطین مارچ پر پولیس گردی، خونی کریک ڈاؤن اور مظاہرین پر بہیمانہ تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی اور جبر قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے ہاتھ نہتے شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اظہارِ رائے اور
احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت جس ڈگر پر چل پڑی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، جس سے پوری قوم شدید اضطراب میں مبتلا ہے۔ڈاکٹر طارق سلیم نے مطالبہ کیا کہ تحریک لبیک کی گرفتار قیادت اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے، سانحہ مریدکے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرا کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے فاشٹ طرزِ عمل اختیار کر کے عوام کو سیاسی اور جمہوری اظہارِ رائے کے حق سے محروم کردیا ہے جو سراسر غیر آئینی اقدام ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پرامن احتجاج عوام کا بنیادی حق ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرے لیکن اس نے ریاستی تشدد کا راستہ اپنایا اور بے گناہ افراد کا خون بہایا۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے مطالبہ کیا کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو فوری رہا کیا جائے، شہدا کی میتیں ورثا کے حوالے کی جائیں، زخمیوں کے علاج کی فوری سہولت فراہم کی جائے اور مساجد، مکانات و خانقاہوں کے محاصرے اور مسماری جیسے اقدامات کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ عوام کے جمہوری و آئینی حقوق سلب کرنا اور پرامن احتجاج کا حق چھیننا بدترین آمریت ہے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طارق سلیم انھوں نے

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم