مریدکے میں تحریک لبیک کے یکجہتی فلسطین مارچ پر خونی آپریشن، ریاستی جبر کی انتہا ہے، ملی یکجہتی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے آن لائن اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیہ کے مطابق قائدین کا کہنا تھا کہ پرامن فلسطینی یکجہتی مارچ ملت اسلامیہ کے اتحاد و وحدت کے لئے تھا اور یہ ہر جماعت کا سیاسی آئینی، جمہوری حق ہے۔ حکومت نے فاشٹ عمل سے عوام کو سیاسی جمہوری مزاحتمی اظہار رائے سے محروم کیا ہے جو سراسر غیرآئینی کردار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی قائدین کی مریدکے پنجاب میں تحریک لبیک کے یکجہتی فلسطین مارچ پر پولیس کریک ڈاون، خونی آپریشن اور وحشیانہ تشدد کے بعد تحریک لبیک کے کارکنان اور پولیس آفیسرز جوانوں کی شہادتوں کے المناک صورتحال پر آن لائن زوم کانفرنس منعقد ہوئی۔ ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے صدارت کی آن لائن کانفرنس میں لیاقت بلوچ، علامہ عارف حسین واحدی، مفتی گلزار احمد نعیمی، حافظ عبدالغفار روپڑی، محمد جاوید قصوری، پیر سید محمد صفدر شاہ گیلانی، ڈاکٹر علی عباس نقوی، سید اسد عباس نقوی، زاہد محمود قاسمی، پیر لطیف الرحمان شاہ، اسرار نعیمی، ڈاکٹر یونس دانش نے اظہار خیال کیا۔ ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے اجلاس کے متفقہ اعلامیہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک کے یکجہتی فلسطین مارچ پر پولیس گردی، خونی کریک ڈان، خونی آپریشن انتہائی قابل مذمت ہے۔
مریدکے پنجاب میں بڑا انسانی المیہ بڑی تعداد میں انسانوں کی شہادتوں کا باعث بن گیا جو پوری قوم کے لئے انتہائی غم اور شدید اضطراب و سوگ کا باعث بنا ہے۔ پرامن فلسطینی یکجہتی مارچ ملت اسلامیہ کے اتحاد و وحدت کے لئے تھا اور یہ ہر جماعت کا سیاسی آئینی، جمہوری حق ہے۔ حکومت نے فاشسٹ عمل سے عوام کو سیاسی جمہوری مزاحتمی اظہار رائے سے محروم کیا ہے جو سراسر غیر آئینی کردار ہے۔ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے، حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مذکرات، بات چیت سے عوامی احتجاج کے مسئلہ کا حل تلاش کرئے لیکن حکومت نے ریاستی تشدد کا راستہ اختیار کر کے بڑی غلطی کی ہے۔ پنجاب حکومت عوامی احتجاج کو مذکرات، پرامن بنیادوں پر حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے خونی اور اندھی طاقت کے آپریشن سے خود اپنا چہرہ بھی خونی بنا لیا ہے۔ خونی آپریشن کے بعد یہ خبریں بھی انتہائی تشویشناک ہیں کہ شہدا کی نعشیں پولیس نے قبضہ میں لے لی ہیں، لواحقین کو نہیں دی جا رہی ہیں، زخمیوں کے علاج سے بھی لواحقین بے خبر ہیں۔
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی قائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ مریدکے سانحہ کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ عوامی کمیشن قائم کیا جائے۔ حکومت اپنی ناکامی، نااہلی تسلیم کرے، پوری قوم سے معافی مانگے، عوام کے جان و مال عزت کا تحفظ حکومت کا بنیادی ذمہ داری ہے۔ پنجاب حکومت کے فاشسٹ اقدامات قابل مذمت ہیں۔ وفاقی حکومت اور وزیراعظم نے بھی تحریک لبیک کے ساتھ پرامن مذکرات اور سیاسی حل تلاش کرنے پر بڑی غفلت کا مظاہرہ کیا ہے، وفاقی حکومت اس خرابی کی ذمہ دار ہے۔ سیکورٹی، حساس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی صبر و تحمل کی بجائے طاقت کے استعمال سے پرامن، مذاکرات کے ذریعے حل کے دروازے بند کر دیے یہ عمل غیر قانونی ہے۔
ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے تحریک لبیک کے یکجہتی فلسطین مارچ کے پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کی کوششیں کیں لیکن حکومت اور ادارے اپنی ضد، ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ملی یکجہتی کونسل نے مطالبہ کیا ہے تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو فوری رہا کیا جائے، شہدا کی میتیں ورثا کے حوالے کی جائیں اور زخمیوں کا فوری طور پر علاج کی سہولیات مہیا کی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک لبیک کے یکجہتی فلسطین مارچ ملی یکجہتی کونسل حکومت نے کیا ہے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔