کراچی میں خونی حادثات جاری، ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار خاتون جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
خاتون موٹر سائیکل پر سوار تھی، جنہیں ٹریلر نے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں خاتون سڑک پر گر گئی اور ٹریلر کے پہیوں تلے کچل کر جاں بحق ہوگئی۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں بے قابو ہیوی ٹریفک کے دلخراش حادثات کا سلسلہ جاری ہے اور ماڑی پور روڈ دعا ہوٹل کے قریب ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار خاتون جاں بحق ہوگئیں۔ پولیس کے مطابق ٹریلر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والی موٹرسائیکل سوار خاتون کی لاش ایدھی کے رضا کاروں نے سول اسپتال پہنچائی جہاں ان کی شناخت 28 سالہ ریحانہ کے نام سے ہوئی۔ کلری تھانے کے ڈیوٹی افسر شکیل نے بتایا کہ خاتون موٹر سائیکل پر سوار تھی، جنہیں ٹریلر نے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں خاتون سڑک پر گر گئی اور ٹریلر کے پہیوں تلے کچل کر جاں بحق ہوگئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور لقمان کو حراست میں لے کر ٹریلر اپنے قبضے میں لے لیا۔
ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ متوفیہ بلدیہ اتحاد ٹاؤن کی رہائشی اور بیوہ تھیں اور ان کے والد کا بھی انتقال ہو چکا ہے اور متوفیہ کا بیٹا بھی اسپتال پہنچ گیا، تاہم پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد متوفیہ کی لاش ان کی والدہ کے حوالے کر دیا۔ پولیس افسر کے مطابق متوفیہ کے ورثا کا کہنا تھا کہ وہ تدفین کے بعد قانونی کارروائی کیلئے آئیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔