data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سے مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ، جوکہ اس وقت ٹیکس سال 2025 کے لیے 15 اکتوبر 2025 مقرر ہے ،کو 31 اکتوبر 2025 تک بڑھا دیا جائے۔عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ ایف بی آر کے چیئرمین، راشد محمود لنگڑیال کو لکھے گئے ایک خط میں ایف پی سی سی آئی نے ٹیکس دہندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا ہے۔ ان چیلنجز میں اہم مالیاتی دستاویزات کے حصول میں تاخیر، ایف بی آر کے پورٹل پر تکنیکی مسائل اور انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ERP) سسٹمز کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مشکلات شامل ہیں۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے ٹیکس دہندگان کے لیے دوستانہ رویہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر فوری اقدامات کرے؛ تاکہ ،ان مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو ان کے قانونی فرائض پورے کرنے ، ذہنی دباؤ سے بچانے اور سہولت دینے کے لیے آخری تاریخ میں توسیع نہایت ضروری ہے۔سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے واضح کیاکہ بہت سے ٹیکس دہندگان ضروری مالیاتی ریکارڈ جمع کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجہ ایف بی آر کے آن لائن پورٹل کی سست رفتاری اور بار بار پیش آنے والے تکنیکی مسائل ہیں، جو ریٹرنز جمع کروانے کے عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرنے اس موقع پر کہا کہ کاروباری ادارے اپنے ERP سسٹمز کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل انوائسنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں؛ جس کی وجہ سے ٹیکس کمپلائنس میں تاخیر ہو رہی ہے۔ایف پی سی سی آئی نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ میں کم از کم 31 اکتوبر 2025 تک توسیع دے دی جائے؛ تاکہ، ٹیکس دہندگان کو پریشانی سے بچایا جا سکے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایف پی سی سی ا ئی ٹیکس دہندگان ایف بی ا ر کے ا خری تاریخ

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری