بنگلہ دیش میں اصلاحاتی چارٹر پر ریفرنڈم کرانے پر اتفاق، انتخابی شیڈول پر اختلاف برقرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا: بنگلہ دیش کی بڑی سیاسی جماعتوں نے ملک کے آئینی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے لیے تاریخی اصلاحاتی چارٹر پر ریفرنڈم کرانے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے تاہم اس کے انعقاد کی تاریخ طے نہ ہو سکی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 170 ملین آبادی والے اس ملک میں بحران کی شروعات اگست 2024 میں ہوئیں، جب طلبہ تحریک کی قیادت میں وزیراعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹایا ، اس کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کیا۔
عبوری سربراہ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے اصلاحاتی مسودے ، جسے جولائی چارٹر کہا جا رہا ہے، اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، 28 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں وزرائے اعظم کے لیے دو مدت کی حد، صدر کے اختیارات میں اضافہ اور ملک کو کثیر النسلی و کثیر المذاہب ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
محمد یونس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بکھرے ہوئے نظام کو درست کرنے کی ذمہ داری سنبھالی ہے اور ان اصلاحات کا مقصد ملک میں دوبارہ آمریت کے ابھرنے کے امکانات کو ختم کرنا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ فروری 2026 کے عام انتخابات کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
اجتماعی اتفاق رائے کمیشن کے نائب چیئرمین علی ریاض کے مطابق تقریباً 30 سیاسی جماعتوں کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد ریفرنڈم کے انعقاد پر اتفاق تو ہو گیا ہے، تاریخ کے تعین پر جماعتوں کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔
بعض جماعتیں، بشمول جماعتِ اسلامی، چاہتی ہیں کہ ریفرنڈم انتخابات سے قبل منعقد کیا جائے جبکہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سمیت دیگر بڑی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ریفرنڈم اور عام انتخابات ایک ہی روز کرائے جائیں۔
علی ریاض نے ڈھاکا میں نو گھنٹے طویل اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ کئی جماعتیں چاہتی ہیں کہ دونوں عمل ایک ہی دن مکمل ہوں، تاکہ عوامی مینڈیٹ زیادہ واضح اور متفقہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.