بسم اللہ سٹی ایکسٹینشن ہائوسنگ اسکیم کے گرد گھیر ا تنگ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
محمد عارف میمن ولد حاجی عبدالمجید میمن، اسپانسر کو مختیارکار لطیف آباد کا نوٹس جاری
زمین پر سرکاری اراضی پر تجاوزات کا الزام،تعمیرات اور خرید و فروخت روک دی جائیں
بسم اللہ سٹی ایکسٹینشن ہائوسنگ اسکیم کی زمین پر سرکاری اراضی پر تجاوزات کا الزام، مختیارکار لطیف آباد کا نوٹس جاری تفصیلات کے مطابق مختیارکار تعلقہ لطیف آباد حیدرآباد کے دفتر سے محمد عارف میمن ولد حاجی عبدالمجید میمن، اسپانسر بسم اللہ سٹی ایکسٹینشن ہاسنگ اسکیم لطیف آباد کو باضابطہ نوٹس جاری کیا گیا ہے نوٹس نمبر AM؍791مورخہ 14اکتوبر 2025کے مطابق دفتر مختیارکار کو شکایت موصول ہوئی ہے کہ بسم اللہ سٹی ایکسٹینشن اسکیم کے تحت ہونے والی تعمیرات سرکاری زمین (Flood Protection Bund Land)پر مبینہ طور پر اوورلیپ کر رہی ہیںنوٹس میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ تمام تعمیراتی اور خرید و فروخت کے معاملات فی الفور روک دیٔے جائیں جب تک کہ محکمہ ا سیٹلمنٹ سروے اور محکمہ آبپاشی کی مشترکہ نشاندہی و حدبندی مکمل نہیں ہو جاتی ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سروے نمبر 318دیہہ گڈو بندر کی حدود میں سرکاری زمین پر اضافی تعمیرات کی جا رہی ہیں جو کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کیلئے مختص سرکاری اراضی کے زمرے میں آتی ہے مختیارکار آفس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہیں تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی اور ریوینیو حکام جلد ہی مشترکہ سروے ٹیم تشکیل دے کر موقع کا باقاعدہ معائنہ کریں گے تاکہ زمین کی حدود اور قبضہ کی صورتحال واضح ہو سکے۔
.ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بسم اللہ سٹی ایکسٹینشن لطیف ا باد
پڑھیں:
آئینی ججز کی تقرری کے خلاف نوٹس پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے 27 ویں آئینی ترمیم اور آئینی عدالت کے ججز کی تقرری کے خلاف درخواست کی سماعت کے بعد وفاقی آئینی بینچ کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کو نوٹس جاری کرنے کے نکتے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
درخواست گزار، بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو بتایا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے کیونکہ اس کے ذریعے عدلیہ میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی سفارش پر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کو نامزد کیے گئے، جبکہ بعد ازاں چھ ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔ بیرسٹر علی طاہر نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ سندھ ہائیکورٹ بار کے مقدمے کی طرح ججز کو اس کیس میں فریق بنایا جائے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد وفاقی آئینی بینچ کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کو نوٹس جاری کرنے کے نکتے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
درخواست میں وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔