سندھ ہائیکورٹ: پاکستان کی پہلی ٹرانسجینڈر ڈاکٹر کو لائسنس جاری نہ کرنے پر پی ایم ڈی سی کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان کی پہلی ٹرانسجینڈر ڈاکٹر سارہ گل کی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور لائسنس کے عدم اجرا کیخلاف درخواست پر پی ایم ڈی سی ودیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
ہائیکورٹ میں پاکستان کی پہلی ٹرانسجینڈر ڈاکٹر سارہ گل کی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور لائسنس کے عدم اجرا کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواست گزار نے جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے 2021 میں ایم بی بی ایس مکمل کیا۔ جے ایم ڈی سی اب یونیورسٹی میں تبدیل ہوچکی ہے۔
وکیل نے کہا کہ یونیورسٹی کے مطابق پہلے یونیورسٹی کا جامعہ کراچی سے الحاق تھا۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اب علیحدہ یونیورسٹی بن چکی ہے لہٰذا پی ایم ڈی سی کے پورٹل تک رسائی نہیں ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی کے مطابق طلبا کا ریکارڈ اپڈیٹ کرنا یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے۔ اداروں کے درمیان ذمہ داری کے تنازع کے باعث درخواستگزار کو لائسنس کا اجرا نہیں ہوسکا ہے۔
عدالت نے پی ایم ڈی سی ودیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔