گلگت، وفاقی وزیر احسن اقبال کا شہید سیف الرحمن ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
احسن اقبال نے ہسپتال کی کارکردگی اور عملے کی محنت کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں شہید سیف الرحمان گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال کے فیز ٹو کو شامل کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے سابق وزیر اعلیٰ اور صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے ہمراہ شہید سیف الرحمان گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال گلگت کا دورہ کیا، جہاں انہیں ہسپتال کی موجودہ صورتحال اور آئندہ ضروریات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے دوران سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ و ڈائریکٹر انسپکشن اینڈ آپریشنز جی بی سرجن ڈاکٹر اقبال عزیز نے سیکرٹری صحت، سیکرٹری خزانہ اور ڈائریکٹر پلاننگ کی موجودگی میں فیز ٹو کی فوری ضرورت، اہمیت اور افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہسپتال کی استعداد، دستیاب طبی سہولیات، جدید مشینری، مادر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کمپلیکس، مختلف اسپیشلٹی وارڈز اور درپیش چیلنجز کا جامع جائزہ بھی پیش کیا۔ احسن اقبال نے ہسپتال کی کارکردگی اور عملے کی محنت کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں شہید سیف الرحمان گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال کے فیز ٹو کو شامل کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اس نوعیت کے اداروں کو قومی سطح پر خصوصی توجہ ملنی چاہیے۔ شہید سیف الرحمان گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال کو گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے، جو سابق وزیراعلیٰ و صدر مسلم لیگ (ن) جی بی حافظ حفیظ الرحمن کی درخواست پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے عوام کے لیے بطور تحفہ دیا گیا تھا۔ ترجمان نے اس منصوبے میں کردار ادا کرنے والی تمام شخصیات، خصوصاً حافظ حفیظ الرحمن اور میاں شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی دوراندیشی کے باعث آج ہزاروں شہری جدید طبی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احسن اقبال ہسپتال کی
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان