ہسٹوٹرپسی: کینسر مریضوں کے لیے امید افزا خبر، بغیر آپریشن انقلابی علاج دریافت
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
الٹراساؤنڈ جو طویل عرصے سے جسم کے اندر دیکھنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے اب اعلیٰ فریکوئنسی کی آوازوں کے ذریعے کینسر کے علاج کے نئے امکانات پیش کر رہا ہے جہاں بغیر جراحی کے طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پھیپھڑوں میں چھپے کینسر کے ٹیومرز ڈھونڈنے والا روبوٹک آلہ کامیاب ثابت
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق الٹراساؤنڈ سے کینسر کے علاج کی نئی امید پیدا ہوچکی ہے۔
ژین شو کی دلچسپ کہانیاگر ژین شو نے اپنے لیب کے ساتھیوں کو تنگ نہ کیا ہوتا تو شاید وہ جگر کے کینسر کے علاج میں ایک انقلابی دریافت نہ کر پاتیں۔
سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں جب وہ امریکا کی یونیورسٹی آف مشی گن میں بایومیڈیکل انجینیئرنگ کی پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں تو ان کا مقصد یہ تھا کہ مریض کے جسم سے خراب ٹشوز کو بغیر سرجری کے ختم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ہائی فریکوئنسی الٹراساؤنڈ لہروں کو استعمال کرنے کا خیال پیش کیا اور سور کے دل پر تجربات کیے۔
الٹراساؤنڈ عام طور پر انسانی سماعت سے باہر ہوتا ہے لیکن ژین شو نے اتنی طاقتور مشین استعمال کی کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے محققین شور کی شکایت کرنے لگے۔
مزید پڑھیے: سروائیکل کینسر، لاعلمی سے آگاہی تک
اپنی تحقیق کے ناکام نتائج سے تنگ آکر انہوں نے الٹراساؤنڈ کی فریکوئنسی بڑھا دی تاکہ آواز انسانی سماعت کی حد سے باہر ہو جائے۔
لیکن حیرت انگیز طور پر یہ نیا طریقہ نہ صرف کم شور والا نکلا بلکہ زندہ ٹشوز پر پہلے سے زیادہ مؤثر بھی ثابت ہوا۔ صرف ایک منٹ میں سور کے دل میں ایک سوراخ بن گیا۔ ژین کہتی ہیں کہ مجھے لگا جیسے میں خواب دیکھ رہی ہوں۔آج ژین شو یونیورسٹی آف مشی گن میں بایومیڈیکل انجینیئرنگ کی پروفیسر ہیں اور ان کی یہ دریافت ’ہسٹوٹرپسی‘ کینسر کے جدید، بغیر سرجری علاج کے نئے دور کی نمائندہ بن چکی ہے۔
ہسٹوٹرپسی: الٹراساؤنڈ سے کینسر کے علاج کی نئی امید
اکتوبر 2023 میں امریکی ادارے ایف ڈی اے نے ہسٹوٹرپسی کو جگر کے ٹیومر کے علاج کے لیے منظوری دی۔ اگلے سال ہسٹوسونکس نامی کمپنی کی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ یہ طریقہ 95 فیصد جگر کے ٹیومرز کے خلاف مؤثر رہا۔ اگرچہ کچھ ضمنی اثرات جیسے پیٹ میں درد یا اندورنی خون بہنا ممکن ہیں لیکن تحقیق کے مطابق یہ پیچیدگیاں نایاب ہیں اور طریقہ کار عمومی طور پر محفوظ ہے۔
جون 2024 میں برطانیہ یورپ کا پہلا ملک بنا جس نے ہسٹوٹرپسی کو منظور کیا اور اسے این ایچ ایس (برطانیہ کا قومی صحت نظام) میں پائلٹ پروگرام کے تحت شامل کیا گیا۔
مزید پڑھیں: کینسر ویکسین کی تحقیق کے لیے اے آئی سپر کمپیوٹر نے کام شروع کردیا
اسپین کی رامن ای کاہال انسٹیٹیوٹ سے جولی ارل کہتی ہیں کہ لوگ الٹراساؤنڈ کو صرف امیجنگ کے طور پر جانتے ہیں لیکن تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹیومر کو تباہ کر سکتا ہے، میٹا اسٹیٹک (پھیلنے والے) کینسر کو کم کر سکتا ہے اور دیگر علاج کی افادیت بڑھا سکتا ہے وہ بھی بغیر جراحی کے۔
الٹراساؤنڈ سے علاج کیسے کام کرتا ہے؟الٹراساؤنڈ کی مدد سے جسم کے اندرونی ٹشوز کی امیجنگ کی جاتی ہے لیکن کینسر کے علاج میں الٹراساؤنڈ کی لہروں کو خاص طور پر ٹیومر پر مرکوز کیا جاتا ہے۔
یہ لہریں چھوٹے [مائیکرو ببلز‘ پیدا کرتی ہیں جو سیکنڈ کے ایک ہزارویں حصے میں پھیلتی اور پھٹتی ہیں جس سے کینسر کے خلیے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد مریض کا مدافعتی نظام بچے ہوئے خلیوں کو صاف کر دیتا ہے۔
ہسٹوٹرپسی میں یہ لہریں صرف2 بائی 4 ملی میٹر کے علاقے پر مرکوز کی جاتی ہیں جو کہ رنگ کرنے والے قلم کی نوک کے برابر ہوتا ہے۔ روبوٹک بازو کے ذریعے آلہ ٹیومر کے درست مقام پر لے جایا جاتا ہے۔
یہ طریقہ تیز، غیر زہریلا اور غیر جراحی ہے اور اکثر مریضوں کو اسی دن گھر جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔
عام طور پر ایک سے 3 گھنٹے میں عمل مکمل ہو جاتا ہے اور کئی بار ایک ہی سیشن میں ٹیومر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر ٹیومر زیادہ یا پھیلا ہوا ہو تو ایک سے زائد سیشن کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
کیا خدشات موجود ہیں؟اگرچہ ہسٹوٹرپسی مؤثر ہے مگر ابھی طویل المدتی تحقیق ابھی باقی ہے اور ذہنوں میں کچھ سوالات ہیں جیسے کہ کیا کینسر دوبارہ ہو سکتا ہے، کیا ٹشوز کو توڑنے سے کینسر کے خلیے جسم میں پھیل سکتے ہیں (ابھی جانوروں میں ایسا نہیں دیکھا گیا) اور کیا ہر قسم کے کینسر پر یہ مؤثر ہے مثلاً ہڈی یا گیس والے اعضا میں الٹراساؤنڈ پہنچنے میں رکاوٹ ہو سکتی ہے۔
الٹراساؤنڈ سے کینسر کو پکانا ایچ آئی ایف یو کا استعمالہسٹوٹرپسی پہلی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ہائی انٹینسٹی فوکسڈ الٹراساؤنڈ بھی پہلے سے موجود ہے۔ اس میں الٹراساؤنڈ کی لہریں ٹیومر پر مرکوز کر کے اسے گرم کیا جاتا ہے جیسے دھوپ میں عدسے سے کوئی خشک پتہ جلا دیا جائے۔
یہ طریقہ خاص طور پر پروسٹیٹ کینسر کے لیے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ سرجری کے مقابلے میں کم تکلیف اور جلد بحالی دیکھنے میں آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بار بار اعضا کی پیوندکاری سے انسان امر ہو سکتا ہے؟شی جن پنگ اور پیوٹن کےدرمیان غیر متوقع گفتگو
ایچ آئی ایف یو یا ہسٹوٹرپسی دونوں عمومی طور پر جنرل اینستھیزیا کے تحت کیے جاتے ہیں تاکہ مریض حرکت نہ کرے۔ایچ آئی ایف یو میں گرمی پیدا ہوتی ہے جو قریبی صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جب کہ ہسٹوٹرپسی میں یہ خطرہ کم درپیش ہوتا ہے۔
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگر خون میں مائیکرو ببلز داخل کی جائیں اور انہیں الٹراساؤنڈ سے متحرک کیا جائے تو وہ ’بلڈ برین بیریئر‘ (دماغ کی قدرتی حفاظتی دیوار) کو وقتی طور پر کھول سکتی ہیں۔ اس سے ادویات دماغ تک آسانی سے پہنچ سکتی ہیں۔
کینیڈا میں ڈاکٹر دیپا شرما نے بھی الٹراساؤنڈ اور مائیکرو ببلز کے امتزاج پر تحقیق کی ہے۔ ان کے مطابق یہ مختلف اقسام کے کینسر میں دواؤں کی ترسیل کو بہتر بناتا ہے، ریڈی ایشن کی افادیت میں اضافہ کرتا ہے، کم مقدار میں دوا دے کر بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ضمنی اثرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
امیونوتھراپی کے ساتھ امتزاجالٹراساؤنڈ امیونوتھراپی کے ساتھ بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ جب الٹراساؤنڈ سے ٹیومر کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو وہ مدافعتی نظام کی نظر میں آ جاتا ہے اور جسم بہتر دفاع کر سکتا ہے۔
مستقبل میں امید ہے کہ اگر ایک ٹیومر کو نشانہ بنایا جائے تو پورے جسم کے کینسر کے خلیوں کو مدافعتی نظام پہچان کر تباہ کر سکے گا اور یہ ’کینسر کی مقدس چابی‘ کے مترادف ہوگا۔
لیکن یہ نظریہ ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اور اس پر مزید تحقیق درکار ہے۔ژین شو کہتی ہیں کہ کینسر ایک ہولناک بیماری ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ہولناک بات اس کا علاج ہے۔
مزید پڑھیے: پھیپھڑے صحت کا راز کھولتے ہیں، ان کی کاردکردگی خود کیسے چیک کی جائے؟
ان کا خیال ہے کہ الٹراساؤنڈ کوئی ’جادوئی علاج‘ نہیں لیکن اگر اس سے مریضوں کو روایتی اور تکلیف دہ علاج سے بچایا جا سکے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الٹراساؤنڈ سے کینسر کا علاج ژین شو کینسر کا بغیر سرجری علاج کینسر کا علاج ہسٹوٹرپسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الٹراساؤنڈ سے کینسر کا علاج ژین شو کینسر کا بغیر سرجری علاج کینسر کا علاج ہسٹوٹرپسی الٹراساؤنڈ سے کینسر الٹراساؤنڈ کی کینسر کے علاج سے کینسر کے کے کینسر علاج کی ہوتا ہے جاتا ہے سکتا ہے ژین شو ہے اور کے لیے
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے