پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت بکنگ کے لیے 4 روز باقی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت بکنگ میں چار دن باقی رہ گئے جب کہ 17 اکتوبر کی شب وزارت کا پورٹل بند کر دیا جائے گا اور مزید بکنگ ممکن نہ ہو گی۔
ذرائع نے کہا کہ پرائیویٹ حج اسکیم میں 16 ہزار نشستیں دستیاب ہیں، پرائیویٹ حج کی بکنگ 17 اکتوبر تک جاری رہے گی، پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت 44 ہزار عازمین کی بکنگ مکمل ہوگئی، پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت 17 اکتوبر کے بعد بکنگ بند ہو جائے گی۔
ذرائع نے کہا کہ سعودی وزارت حج کے احکامات کی روشنی میں پرائیویٹ اسکیم بکنگ کی مدت میں اضافہ ممکن نہیں۔
وزارت مذہبی امور نے نجی حج آپریٹرز کو بکنگ بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، وزیر مذہبی امور نے ہدایت دی کہ بروقت بکنگ مکمل کرنے کے لیے آگہی مہم چلائی جائے۔
وزارت مذہبی امور حج بکنگ میں تیزی کے لیے پرائیویٹ آپریٹرز کو تحریری ہدایت بھی دے چکی۔
ذرائع نے کہا کہ 25 روز میں پرائیویٹ حج آپریٹرز تقریباً 23 ہزار عازمین کی بکنگ کرسکے۔
گزشتہ برس کے 21 ہزار 654 عازمین کو بھی حج پر بھجوایا جائے گا، رواں برس پرائیویٹ آپریٹرز کا کوٹہ 90 ہزار سے کم کر کے 60 ہزار کر دیا گیا۔
ذرائع نے کہا کہ پرائیویٹ آپریٹرز 38 ہزار 346 کے حج کوٹے پر بکنگ کر رہے ہیں، پرائیویٹ حج اسکیم کے کی بکنگ کا اغاز 19 ستمبر کو کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت نے کہا کہ کی بکنگ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔